خبریں

6 سال بعد ہندوستان-چین سرحد پر اتراکھنڈ کے لیپولیکھ درّے کے راستے تجارت دوبارہ شروع

گزشتہ چند مہینوں میں نئی دہلی-بیجنگ نے اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ مشرقی لداخ سرحد پر 4 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے تعطل کے دوران یہ تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>ہندوستان-چین، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

ہندوستان-چین، تصویر آئی اے این ایس

 

ہندوستان اور چین کے درمیان اتراکھنڈ کے لیپولیکھ درّے سے ہونے والی سرحدی تجارت 6 سال سے زائد عرصے کے بعد ہفتہ (یکم اگست) سے دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ افسران کے مطابق چین نے 20 ہندوستانی تاجروں کو پورانگ (تکلا کوٹ) جانے کی اجازت دی ہے۔ پہلے مرحلے کے لیے تبت میں چینی انتظامیہ کو تیاری کا جائزہ لینے اور اپنے موجودہ اسٹاک کی جانچ کرنے کے لیے جانے کی منظوری دی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل خارجہ سکریٹری وکرم مسری کے بیجنگ دورہ کے دوران ہندوستان اور چین نے دو فریقی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ اس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جنپنگ کے اس مشترکہ وژن کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک ترقی میں شراکت دار ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ فریقین نے ہندوستان-چین سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند مہینوں میں نئی دہلی اور بیجنگ نے اپنے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ مشرقی لداخ سرحد پر 4 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے تعطل کے دوران یہ تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے تھے۔ گزشتہ سال اگست میں وزیر اعظم نریندر مودی سالانہ ایس سی او سربراہی اجلاس میں حصہ لینے کے لیے چین کے شہر تیانجن گئے تھے۔ ایس سی او اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور شی جنپنگ کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔

ہندوستان-چین سرحدی تجارت کے دوبارہ شروع ہونے سے سرحدی علاقے کی روایتی تجارتی سرگرمیوں کو ایک نئی رفتار ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی مقامی تاجروں، سرحدی علاقوں کے لوگوں کے روزگار اور علاقائی معیشت کو بھی اس سے نمایاں فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ اس تجارت کو دونوں ممالک کے درمیان برسوں سے چلی آ رہی روایتی سرحدی تجارتی نظام کو آگے بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔