
سپر ال نینو، تصویر اے آئی
ہر روز درجۂ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ تپش دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ یہ حال صرف ہندوستان کا نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر میں گرمی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھ کر ماہرین موسمیات تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہیں تقریباً 150 سال قبل آنے والے ’سپر ایل نینو‘ کے دوبارہ لوٹنے کا خدشہ لاحق ہے، جس نے دنیا بھر میں تقریباً 5 کروڑ لوگوں کی جان لے لی تھی۔ ایسے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر 150 سال پہلے کیا ہوا تھا۔
Published: undefined
آج سے تقریباً 150 سال قبل زمین پر موسم نے ایسا قہر برپا کیا تھا کہ اس کا تصور کر آج بھی لوگ سہم جاتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا ایک نایاب ’سپر ایل نینو افیکٹ‘ کا شکار ہو گئی تھی۔ زمین کا درجۂ حرارت تقریباً 3 ڈگری تک بڑھ گیا تھا۔ ہر طرف قحط، خشک سالی اور بھکمری جیسے حالات پیدا ہو گئے تھے۔ سپر ایل نینو نے ایسی تباہی مچائی تھی کہ 5 کروڑ لوگ تڑپ تڑپ کر مر گئے تھے۔ صرف ہندوستان میں ہی ایک کروڑ سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
Published: undefined
’ڈیلی میل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والا ’سپر ایل نینو‘ گزشتہ مرتبہ کے مقابلے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں 5 کروڑ سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئی تھیں۔ 1877 کا ال نینو تاریخ کی سب سے سنگین موسمیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے ایک عالمی انسانی بحران کو جنم دیا تھا۔ اسے عظیم قحط کے نام سے جانا جاتا ہے۔ موسمیاتی تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ بحرالکاہل کے ایک اہم حصے میں پانی کا درجۂ حرارت 2.7 ڈگری سلسیس تک بڑھ گیا تھا، جس سے پوری دنیا میں بارش کے نظام میں خلل پیدا ہو گیا تھا۔ اندازوں کے مطابق اس کے نتیجے میں خوراک کی قلت اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے اس وقت زمین کی تقریباً 4 فیصد آبادی ختم ہو گئی تھی۔ اگر آج ایسا ہو تو یہ کم از کم 25 کروڑ افراد کے برابر ہوگا۔
Published: undefined
تازہ پیش گوئیوں کے مطابق اس سال کے آخر تک پانی کا درجۂ حرارت اوسط سے 3 ڈگری سلسیس (5.4 ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس سے آنے والا سپر ایل نینو تقریباً 150 سال پہلے والے سپر ایل نینو سے بھی زیادہ طاقتور ہو جائے گا۔ ’واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی‘ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر دیپتی سنگھ نے ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو بتایا کہ 1870 کی دہائی جیسی کئی برسوں تک جاری رہنے والی خشک سالی کی صورتحال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔ اس وقت دنیا کے کئی حصوں میں برسوں تک خشک سالی اور قحط جیسے حالات قائم رہے تھے۔ اب فرق صرف یہ ہے کہ ہمارا ماحول اور سمندر 1870 کی دہائی کے مقابلے میں کافی زیادہ گرم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پیدا ہونے والے شدید اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
کئی موسمیاتی مؤرخین کا ماننا ہے کہ 78-1877 کے سپر ال نینو نے عالمی تاریخ کو نئی شکل دی تھی۔ بعض ماہرین اسے موسمیاتی تبدیلی سے جڑی پہلی بڑی آفات میں شمار کرتے ہیں۔ اس دوران کئی برسوں سے جاری خشک سالی مزید سنگین ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ ہو گئی تھیں۔ مانسون کی بارش نہ ہونے کے سبب ہندوستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل تھا۔ یہاں طویل عرصے تک خشک سالی اور قحط جیسے حالات پیدا ہو گئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد کی جان چلی گئی تھی۔
Published: undefined
دوسری جانب شمالی چین میں شدید خشک سالی کے باعث فصلیں تباہ ہو گئیں۔ برازیل میں دریا خشک ہو گئے اور زرعی نظام مفلوج ہو گیا۔ افریقہ، جنوب مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا کے بعض حصوں میں بھی شدید خشک سالی اور جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی تھی۔ اُس وقت سپر ال نینو نے تاریخ کے سب سے بڑے قحط کو جنم دیا تھا۔ اس نے دنیا بھر کے معاشروں کو کمزور کر دیا۔ بعض علاقوں میں نوآبادیاتی کنٹرول مزید سخت کر دیا گیا، جس سے لوگوں کی نقل مکانی میں اضافہ ہوا۔ کمزور آبادی والے علاقوں میں ملیریا، طاعون، پیچش، چیچک اور ہیضہ جیسی بیماریوں کا پھیلاؤ بھی تیزی سے بڑھ گیا تھا۔ ’اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک‘، البانی کے پال راؤنڈی نے کا بھی کہنا ہے کہ یہ سال ممکنہ طور پر 1877 کے بعد سب سے بڑے ال نینو واقعے کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔ موسمیات کی ماہر کیتھرین ہیہو نے کہا کہ اس کے انسانی معاشرے اور انسانی فلاح و بہبود پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی نظام ہے، جو ہر 2 سے 7 سال کے درمیان گرم ’ال نینو‘ اور سرد ’لا نینا‘ مرحلے کی صورت میں رونما ہوتا ہے۔ اس چکر کے دوران بحرالکاہل میں جمع ہونے والا گرم پانی پھیل جاتا ہے اور زمین کی اوسط سطحی حرارت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ حرارت بالآخر فضا میں منتقل ہو جاتی ہے، جس سے زمین کا درجۂ حرارت کئی مہینوں تک بڑھ جاتا ہے۔ جب سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت 2 ڈگری سلسیس (3.6 ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ ہو جائے تو اسے عموماً ’سپر ایل نینو‘ کہا جاتا ہے، اگرچہ سائنسداں خود اس اصطلاح کا باقاعدہ استعمال نہیں کرتے۔
Published: undefined
موجودہ حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹراپیکل پیسیفک خطے میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت اس صدی کے کسی بھی دور کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن یہ اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ ایک طاقتور ال نینو نظام تشکیل پا رہا ہے۔ ماہر موسمیات کی پیش گوئی کرنے والے ولفران موفاؤما اوکیا کے مطابق موسمیاتی ماڈلز اب کافی حد تک متفق ہیں کہ ال نینو شروع ہونے اور بعد کے مہینوں میں مزید شدید ہونے کا امکان ہے اور یہ اپنی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتا ہے۔
Published: undefined
سپر ال نینو کے ممکنہ اثرات پر خدشات کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی نگرانی اور پیش گوئی میں ہونے والی ترقی کی وجہ سے دنیا اب اس کے نتائج سے نمٹنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 1877 جیسی تباہ کن صورتحال کے دوبارہ پیدا ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ اس دور جیسے سماجی، سیاسی اور اقتصادی حالات اب موجود نہیں ہیں۔ اس وقت سامراجی پالیسیوں اور نوآبادیاتی نظام نے بھی حالات کو مزید بدتر بنا دیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
IANS