خبریں

بی جے پی کی کوشش کے باوجود نہیں ٹوٹے گا ایس پی-بی ایس پی اتحاد: مایاوتی

بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے پیسہ اور سرکاری مشینری کا استعمال کر کے اترپردیش سے راجیہ سبھا کی نویں سیٹ پر قبضہ کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا بی ایس پی سربراہ مایاوتی

اتر پردیش راجیہ سبھا انتخاب میں بی ایس پی امیدوار کو ملی شکست سے پارٹی سربراہ مایاوتی انتہائی مایوس ہیں۔ بی ایس پی امیدوار انل کمارسنگھ کی کراس ووٹنگ سے بی جے پی امیدوار کے فتحیاب ہونے کے بعد آج مایاوتی نے پریس کانفرنس کی جس میں انل کمار کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران بی جے پی پر ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کا الزام بھی عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی نے اس انتخاب میں پیسہ اور سرکاری مشینری کا غلط استعمال کیا ہے۔

آج پریس کانفرنس میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے بی جے پی پر ایس پی-بی ایس پی اتحاد کو کمزور کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی ہمیں الگ ضرور کرنا چاہتی ہے لیکن اس شکست سے ایس پی-بی ایس پی کے رشتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ میڈیا کے سامنے بی جے پی کے خلاف لڑتے رہنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مایاوتی نے اپنے ان ممبران اسمبلی کی حوصلہ افزائی بھی کی جنھوں نے کراس ووٹنگ نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ میں ان کی ہمت کی مبارکباد دیتی ہوں جنھوں نے بی جے پی کے خوف سے کراس ووٹنگ نہیں کی۔ بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے مایاوتی نے یہاں تک کہا کہ ایس پی اور بی ایس پی ممبران اسمبلی کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔

کراس ووٹنگ کرنے والے ایک بی ایس پی امیدوار کے بارے میں مایاوتی نے کہا کہ ’’ہماری پارٹی کے ایک ممبر اسمبلی انل سنگھ نے دھوکہ دیا جسے ہماری پارٹی نے معطل کر دیا ہے۔‘‘ پریس کانفرنس میں مایاوتی نے بی جے پی کے خلاف نئی پالیسی بنا کر جنگ چھیڑنے کا اعلان بھی کیا۔

واضح رہے کہ 23 مارچ کو دیر رات برآمد نتیجے میں اتر پردیش کی 9نویں سیٹ پر بی جے پی کا قبضہ ہو گیا جس سے بی ایس پی میں مایوسی ہے۔ انل سنگھ کی کراس ووٹنگ کے سبب بی جے پی امیدوار کو 33 ووٹ ملے جب کہ بی ایس پی کو 32 ووٹ ملے۔ قابل ذکر ہے کہ سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے ممبر اسمبلی کیلاش ناتھ سونکر نے اپنی روح کی آواز پر بی ایس پی کو ووٹ دیا تھا۔ اس طرح بی ایس پی فتحیاب ہوتی اگر انل سنگھ نے کراس ووٹنگ نہیں کی ہوتی۔

Published: 24 Mar 2018, 5:02 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 24 Mar 2018, 5:02 PM IST