
مقتول گردیپ سنگھ، تصویر/آئی اے این ایس
نیویارک کے بروکلن میں پیزا ڈیلیوری کرنے کے دوران ہندوستان کے 28 سالہ نوجوان گردیپ سنگھ کا نامعلوم حملہ آور نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ گردیپ سنگھ پنجاب کے کپورتھلا ضلع واقع جابووال گاؤں کے رہنے والے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 2017 میں ’ڈنکی روٹ‘ کے ذریعہ امریکہ پہنچے تھے۔ واقعہ کو لوٹ کی کوشش سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہے اور حملہ آور کی پہچان نہیں ہو سکی ہے۔
واقعہ پر نیویارک واقع ہندوستانی قونصلیٹ جنرل نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں ہندوستانی قونصلیٹ نے کہا کہ ’’ ہمیں یہ جان کر گہرا دکھ ہوا کہ نیویارک کے بروکلن میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہندوستانی شہری گردیپ سنگھ کی المناک موت واقع ہوگئی۔ اس مشکل وقت میں ہماری ہمدردیاں اور دلی تعزیت ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ قونصل خانہ اہل خانہ سے رابطے میں ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ پنجاب کے رہنے والے گردیپ سنگھ نیویارک میں ڈیلیوری پارٹنر کے طور پر کام کر رہے تھے، وہ فی الحال امریکہ میں ورک پرمٹ پر تھے۔ اہل خانہ کے مطابق امریکہ جانے کے بعد انہوں نے تقریباً 9 سال سے اپنے خاندان سے ملاقات نہیں کی تھی۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق گردیپ کے والد پیارے لال نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے امریکہ جانے کے لیے بہت زیادہ قرض لیا تھا۔ امریکہ پہنچنے کے بعد بھی انہیں طویل عرصے تک کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گردیپ سنگھ کو لوٹ کی کوشش کے دوران گولی ماری گئی۔ حالانکہ واقعہ کے پیچھے اصل وجہ کیا تھی، یہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو پائے گا۔
دوسری جانب ’نارتھ امریکن پنجابی آرگنائزیشن‘ (این اے پی اے) نے گردیپ کے قتل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ اس واقعہ کو محض اکلوتا واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ستنام سنگھ چہل نے کہا کہ جب بھی کسی نوجوان پنجابی یا سکھ کا قتل ہوتا ہے ایک پورا خاندان برباد ہو جاتا ہے۔ ہم بار بار ہونے والے تشدد کو ایسی چیز نہیں بننے دیں گے جسے برادری عام بات سمجھ کر جینا سیکھ لے۔ تنظیم نے تفتیش کاروں سے قتل کے پیچھے کی وجہ کا پتہ لگانے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی نتیجے پر پہنچنے سے بچنے کا مشورہ دیا۔ ’این اے پی اے‘ نے کہا کہ امریکہ میں رہنے والے سکھ اور پنجابی برادری کو بھی وہی سیکورٹی ملنی چاہیے، جو ہر امریکی شہری کو ملتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔