
علامتی تصویر
یمن اور صومالیہ کے ساحل کے قریب 2 الگ الگ واقعات میں 22 ہندوستانی شہریوں کو لے جانے والے 2 تجارتی جہازوں کو سمندری لٹیروں نے یرغمال بنا لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں واقعات نے ’ہارن آف افریقہ‘ کے آس پاس کے سمندری علاقے میں سمندری قزاقی کے خطرے کے ایک بار پھر بڑھنے کی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان دونوں تجارتی جہازوں پر 22 ہندوستانیوں سمیت 30 ملاح موجود بتائے جا رہے ہیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ کے مطابق اریٹیریا کے پرچم والے تیل کی مصنوعات کے ٹینکر ’ایم ٹی سیبو 1‘ کو یمن کے ساحل سے تقریباً 30 سمندری میل دور خلیج عدن میں یرغمال بنایا گیا ہے۔ اس جہاز پر عملہ کے 20 اراکین سوار ہیں، جن میں 16 ہندوستانی شہری شامل ہیں۔ سمندری انتظامیہ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق عملہ کے تمام 20 اراکین محفوظ ہیں۔ تاہم، جہاز اور عملے کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تازہ معلومات کا انتظار ہے۔
جہاز کے عملہ میں 16 ہندوستانی شہریوں کے علاوہ ایک شامی، ایک سوڈانی اور ایک عراقی شہری شامل بتائے جا رہے ہیں۔ ایک دیگر ملاح کی شہریت سے متعلق ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عملے کی بھرتی اور تقرری کرنے والی سروس لائسنس ایجنسی سے واقعہ کی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ ایس کے ایس کریشیو میرین سروسز کے سُمت کانت سنگھ نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے عملہ کے 4 اراکین کی بھرتی کی تھی۔ ان سے متعلق معلومات سمندری انتظامیہ ڈائریکٹوریٹ کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
دوسرے واقعہ میں سمندری لٹیروں نے پیر کو صومالیہ کے پنٹ لینڈ ساحل کے قریب کیمرون کے پرچم والے مال بردار جہاز ایم/وی لوٹوف کو قبضے میں لے لیا۔ ایسوسی ایٹیڈ پریس کی جانب سے ایک صومالی افسر کے حوالہ سے دی گئی معلومات کے مطابق جہاز پر 10 رکنی عملہ تھا، جس میں 6 ہندوستانی شہری شامل تھے۔ افسر کے مطابق جہاز کو پنٹ لینڈ کے ائیل ضلع میں مرایا کے قریب ساحل سے تقریباً 3.5 سمندری میل دور قبضے میں لیا گیا۔ اس کے بعد جہاز کو نوگال ساحل کی جانب لے جایا گیا۔ جہاز کے عملہ میں 6 ہندوستانیوں کے علاوہ ایک ترک شہری، ایک جارجیائی شہری اور 2 سربیائی سیکورٹی گارڈ شامل تھے۔ افسر کے مطابق ایم/وی لوٹوف کی ملکیت پولر موومنٹ شپنگ کے پاس ہے۔ جہاز میں اسلحے تھے، جنہیں موغادیشو واقع ترکی کے فوجی تربیتی مرکز تک پہنچایا جانا تھا۔ جہاز پر مواصلاتی اور سیٹلائٹ آلات بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 8 سمندری لٹیروں نے جہاز کو قبضے میں لیا۔ مانا جا رہا ہے کہ یہ لٹیرے اسی گروپ سے وابستہ ہیں، جو اپریل میں ایم/وی سوارڈ جہاز کو یرغمال بنائے جانے میں بھی شامل تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔