
تصویر اے آئی
اے آئی کمپنیاں برسوں سے اس بات پر محنت اور سرمایہ خرچ کر رہی ہیں کہ اے آئی چیٹ بوٹس کو کس طرح دوستانہ اور انسانی جذبات کو سمجھنے اور محسوس کرنے لائق بنایا جائے۔ کمپنیوں کو اس میں بہت حد تک کامیابی بھی ملی ہے اور اب اے آئی چیٹ بوٹس فرینڈلی، یعنی دوستانہ بھی ہو گئے ہیں۔ لیکن اے آئی کی یہ عادت لوگوں کو پسند نہیں آرہی ہے۔
Published: undefined
ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ لوگوں کو ایسے اے آئی چیٹ بوٹس پسند ہیں جو ان کی طرح ہی باتیں کریں۔ ایسے چیٹ بوٹس پسند نہیں آ رہے ہیں جو ضرورت سے زیادہ جوش و خروش کا مظاہرہ کریں یا ضرورت سے زیادہ فرینڈلی ہوں۔ تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ صارفین اور اے آئی چیٹ بوٹس کے مابین شخصیت کا توازن ضروری ہے۔ تحقیق میں حصہ لینے والوں نے ان چیٹ بوٹس کو زیادہ پسند کیا ہے، جس کا طور طریقہ ان کے گفتگو کے انداز سے مشابہت رکھتا ہے۔
Published: undefined
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صارفین فوراً سمجھ سکتے ہیں کہ کب کوئی ٹول قصداً دوستانہ رویہ اختیار کر رہا ہے۔ اس رویے سے اعتماد بحال ہونے کے بجائے انسان مطمئن نہیں ہو پاتا ہے اور گفتگو کی معتبریت پر اثر پڑتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کمپنیاں کسٹمر سروس، پروڈکٹیویٹی ٹولز، ایجوکیشن پلیٹ فارمز، مینٹل ہیلتھ ایپس اور اسمارٹ فون اسسٹنٹس میں ضم کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
گزشتہ دنوں کی بہ نسبت دیکھا جائے تو اے آئی ٹولس کے ڈیزائن اور فلاسفی میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ آغاز میں چیٹ بوٹس روبوٹک طریقے سے جواب دیتے تھے۔ اس کے بعد کمپنیوں نے اسے بہتر بنانے پر کام کیا تاکہ یہ انسانوں کی طرح گفتگو کر سکیں۔ محققین کا اب کہنا ہے کہ صرف دوستانہ رویے اہم نہیں ہیں، اے آئی ٹولز کی معتبریت اور صارفین کے مطابق خود کو ڈھال لینے کی صلاحیت اہمیت رکھتی ہے۔ اے آئی اسسٹنٹ کافی تیز رفتاری سے ہماری زندگی میں جگہ بنا رہے ہیں۔ اسمارٹ فون سے لے کر دفاتر تک ہر جگہ ان ٹولز کا استعمال ہو رہا ہے۔ اس لیے ٹولز کے بات چیت کرنے کا انداز کافی اہمیت رکھتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined