
سمندر میں پاکستان کی ’ناپاک‘ حرکت دیکھنے کو ملی ہے۔ پاکستان کا بحری جہاز ہندوستانی یونٹ سے ٹکرا گیا، جس کے بعد ہندوستان نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے دہلی واقع پاکستانی ہائی کمیشن کے چارج ڈی افیئرس کو طلب کیا ہے۔ واقعہ بین الاقوامی سمندری خطہ (بحر عرب) میں پیش آیا ہے، حالانکہ اس میں کسی بڑے نقصان کی خبر نہیں ہے۔
ہندوستان نے پاکستانی بحری یونٹ کے رویہ کو ناقابل قبول اور غیر پیشہ ور بتایا ہے۔ ہندوستان کے مطابق پاکستانی جہاز کا رویہ اپریل 1991 کے ہند-پاک فوجی مشق سے متعلق معاہدہ کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی ہے۔ وزارت خارجہ نے پاکستان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ سبھی فوجی یونٹ مناسب احتیاط کا مظاہرہ کریں اور دونوں ممالک کے درمیان ہوئے معاہدوں پر عمل کریں۔
ہندوستان نے اپنے بیان میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو، اس کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ اسلام آباد میں ہندوستان کے چارج ڈی افیئرس کو بھی پاکستانی وزارت خارجہ کے سامنے یکساں احتجاج درج کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ غور طلب ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب بحر عرب میں ہندوستانی اور پاکستانی جہاز ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ حالانکہ اپریل 1991 میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جو اس طرح کے حالات سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔
دراصل 1191 کے معاہدہ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب بڑے فوجی مشق یا جماؤڑے سے بچیں گے۔ اگر ایسا کرنے کا کوئی منصوبہ ہو تو پہلے بتائیں گے تاکہ کسی طرح کی غلط فہمی نہ ہو۔ معاہدہ کے تحت دونوں ممالک کی بری افواج، بحریہ اور فضائیہ کو ایک دوسرے کے بہت قریب فوجی مشق کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اگر کوئی مشق ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں معاہدہ میں بتایا گیا ہے، تو خاص فوج کو دوسرے ملک کی طرف نہیں موڑنا چاہیے۔ اس علاقہ کے پاس اسلحہ، گولہ و بارود یا سپلائی کا بڑا اجماع بھی نہیں ہونا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔