خبریں

’پاکستان بھروسے مند نہیں، امریکہ نے اس کا استعمال کیا‘، اسلام آباد کی ثالثی پر اسرائیلی سفیر ریوین آزر کا بیان

ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر ریوین آزر نے خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ سے کہا کہ ’’ہم پاکستان کو ایک قابل اعتماد کھلاڑی کے طور پر نہیں دیکھتے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر ریوین آزر (ویڈیو گریب)</p></div>

ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر ریوین آزر (ویڈیو گریب)

 

2 ہفتے کے لیے ہوئی عارضی جنگ بندی کے بعد بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے۔ دونوں فریق کی جانب سے حملے ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ ایران نے امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کے 3 شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ اس درمیان جنگ کو ختم کرنے کے متعلق پاکستان میں دونوں فریق کے درمیان بات چیت ہونے والی ہے، لیکن اسرائیل کو پاکستان کی ثالثی پر شبہ ہے۔

Published: undefined

ہندوستان میں اسرائیل کے سفیر ریوین آزر نے امریکہ-ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کے مذاکرات میں ثالثی کے طور پر پاکستان کے کردار پر شک ظاہر کیا ہے۔ آزر نے خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ سے کہا کہ ’’ہم پاکستان کو ایک قابل اعتماد کھلاڑی کے طور پر نہیں دیکھتے۔‘‘ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو شامل کرنے کے پیچھے واشنگٹن کی اپنی وجہ ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ ’’امریکہ نے اپنی وجوہات کی بنا پر پاکستان کی ثالثی کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

Published: undefined

اسرائیلی سفیر نے ثالثی کی سابقہ کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے پہلے بھی معاہدے کروانے کے لیے قطر اور ترکی جیسے مسئلہ ساز ممالک کے ساتھ کام کیا ہے، جن میں حماس جیسی تنظیم کے ساتھ ہونے والے معاہدے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمارے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ ہم آہنگ رہیں، خاص طور پر جب بات ان نتائج کے اصل روح اور مقصد کی ہو، جنہیں ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

ہندوستان کا ذکر کرتے ہوئے اسرائیلی سفیر آزر نے کہا کہ ’’مجھے اس بات سے حوصلہ ملا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت بغیر کسی رکاوٹ کے ہونی چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ بالکل درست موقف ہے، اور ہندوستان سمیت کوئی بھی ملک، ایرانی حکومت کے اس بے تکے مطالبے کے آگے جھکنے والا نہیں ہے کہ اس آبنائے ہرمز پر پابندیاں عائد کی جائیں۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ آزر کا یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان 2 ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس ہفتے کے آخر میں ایک طویل مدتی معاہدے کو یقینی بنانے کے مقصد سے ثالثی مذاکرات کے لیے پاکستان جانے والے وفد کی قیادت کریں گے۔ جنگ بندی پر بات کرتے ہوئے آزر نے کہا کہ اسرائیل کو امید ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں ’2 وجودی خطرات‘ یعنی ایران کے ایٹمی پروگرام اور اس کی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ہدف ایرانی حکومت کو کمزور کر کے ایرانی عوام کو اپنے مستقبل کو سنوارنے کا موقع دینا تھا، اور انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم نے اسے حاصل کر لیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined