
ميزبان انگلينڈ کی ٹيم کے خلاف اہم ميچ کے ليے بھارتی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی روایتی نیلے رنگ کی جگہ نارنگی رنگ کی جرسی میں ہوں گے۔ جو رنگ نئی جرسيوں ميں نماياں ہے اسے 'بھگوا‘ رنگ بھی کہتے ہیں۔ یوں تو اسے ہندو دھرم کا علامتی رنگ سمجھا جاتا ہے لیکن حالیہ دنوں میں یہ رنگ، شدت پسند 'ہندوتوا‘ کی علامت بن گیا ہے اور یہی تنازعے کا اصل سبب ہے۔
Published: 30 Jun 2019, 8:00 AM IST
حالاں کہ بھارتی ٹیم کی جرسی میں نارنگی رنگ قريب دو دہائی سے شامل ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے جب جرسی کا بیشتر حصہ روایتی نیلے رنگ کے بجائے نارنگی رنگ پر مشتمل ہوگا۔ جرسی کا پچھلا اور سائیڈ کا حصہ نارنگی رنگ کا اور سامنے کا حصہ نیلے رنگ کا ہے۔
Published: 30 Jun 2019, 8:00 AM IST
بھارت میں اپوزیشن جماعتیں ہندو قوم پرست حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ہندو ثقافت کو فروغ دینے کا الزام لگا رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما اور مہاراشٹر اسمبلی کے رکن عارف نسیم خان نے ”بھگوا‘ رنگ کے استعمال پر اعتراض کرتے ہوئے کہا، ”کھيل ہوں یا ثقافت یا کوئی اور ميدان، يہ افسوس کی بات ہے کہ ہر چیز کو بھگوا رنگ دیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت ملک کو شدت پسند ہندوتوا کی طرف لے جا رہی ہے۔ یہ ملک کے اتحاد کو تباہ کر دے گا۔"
Published: 30 Jun 2019, 8:00 AM IST
اپوزیشن سماج وادی پارٹی کے رہنما ابو عاصم اعظمی نے بھی ملکی کرکٹ ٹیم کی نئی جرسی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے مودی حکومت پر ہر چیز کو ایک مخصوص رنگ میں رنگنے کا الزام لگایا۔ اعظمی کا کہنا تھا، ”نریندر مودی پورے ملک کو بھگوا رنگ میں رنگ دینا چاہتے ہیں۔ اب جرسی کا رنگ بھگوا کر دیا گیا ہے۔ اگر مودی جی کو جرسی کا رنگ تبدیل کرنا ہی تھا، تو قومی پرچم کے تین رنگوں والا بناتے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ لیکن ہر چیز کو بھگوا رنگ میں رنگ دینا غلط ہے۔" حکمران بی جے پی نے ان اعتراضات کو بچکانہ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی رام کدم کا کہنا تھا، ”دراصل اپوزیشن جماعتوں کے پاس کوئی موضوع نہیں ہے، اس ليے اس طرح کے چھوٹے چھوٹے موضوعات اٹھاتی رہتی ہیں۔ کھلاڑیوں کو اپنی جرسی کے رنگ کا فیصلہ خود کرنے دیجيے، کیا يہ فیصلہ بھی اپوزیشن کرے گی۔"
Published: 30 Jun 2019, 8:00 AM IST
رواں ورلڈ کپ میں اس وقت بھی ايک تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا جب وکٹ کیپر اور سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی نے خنجر کے نشان والے دستانے پہنے تھے۔ یہ علامتی نشان، بھارتی فوج کے ایک یونٹ کے زير استعمال ہے۔ آئی سی سی نے اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے دھونی کو اس طرح کے دستانے پہننے سے منع کر دیا تھا۔
Published: 30 Jun 2019, 8:00 AM IST
بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (BCCI) نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر اکاونٹ پر نئی جرسی اور اس جرسی میں ملبوس ٹیم کے کئی کھلاڑیوں کی تصویریں جاری کی ہیں۔ دراصل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے ضوابط کے مطابق ایک میچ میں دونوں ٹیمیں لگ بھگ ایک ہی طرح کی جرسی پہن کر میدان میں نہیں اتر سکتيں۔ اور چونکہ میزبان ٹیم کو یہ رعایت حاصل ہے کہ وہ اپنی جرسی کو برقرار رکھے، اس ليے بھارتی ٹیم کو اپنی جرسی تبدیل کرنی پڑی۔ آئی سی سی نے بی سی سی آئی کو اپنی پسند کا کوئی بھی رنگ منتخب کرنے کی اجازت دی تھی۔
Published: 30 Jun 2019, 8:00 AM IST
اسپورٹس صحافی بینو جون کا اس تنازعے پر کہنا ہے، ”اسپورٹس اب محض ٹرافی اور میڈل جیتنے تک محدود نہیں رہ گیا ہے بلکہ اب یہ قوم پرستی کے اظہار کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ چونکہ اس وقت بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کسی سربراہ کے بغیر چل رہا ہے، لہذا جب جرسی کے رنگ کی تبدیلی کی بات آئی، تو بورڈ کو چلانے والی دو رکنی کمیٹی نے بھگوا رنگ والے ڈیزائن کو فوراً منظور کر ديا۔ اگر بھارتی ٹیم کی جرسی سے جارح ہندو قوم پرستی کی علامت کا اظہار ہوتا ہے، تو اسے بھلا کون روک سکتا تھا۔"
Published: 30 Jun 2019, 8:00 AM IST
بینو جون کا مزید کہنا تھا، ”اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بھارتی کرکٹ ٹیم اب براہ راست اور بالواسطہ دونوں ہی طرح سے بڑی تیزی سے سیاسی اظہار کے ليے استعمال کی جانے لگی ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے خلاف حملے کو خراج تحسین پیش کرنے کے ليے ایک سيریز کے دوران پوری بھارتی کرکٹ ٹیم نے فوجی ٹوپیاں پہنی تھیں۔ ورلڈ کپ میں بھی دھونی نے فوج کے ایک یونٹ کے نشان والے دستانے پہنے تھے، جس پر کافی ہنگامہ بھی ہوا تھا۔" بینو جون کہتے ہیں، ”ہو سکتا ہے کہ بھگوا رنگ کی جرسی کے پیچھے کوئی سیاسی سازش نہ ہو لیکن سیاسی رنگ دینے کی جو کوشش کی گئی ہے اس کے چھینٹے بھارتی ٹیم پر ضرور پڑیں گے۔"
Published: 30 Jun 2019, 8:00 AM IST
دریں اثنا سوشل میڈیا پر بھی اس نئی جرسی کے حوالے سے جنگ چھڑ گئی ہے۔ ایک حلقہ نئی جرسی میں بھارتی کھلاڑیوں کو اسمارٹ قرار دے رہا ہے تو دوسرا حلقہ انہیں 'جوکر‘ بتا رہا ہے۔
Published: 30 Jun 2019, 8:00 AM IST
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 30 Jun 2019, 8:00 AM IST
تصویر: پریس ریلیز