
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعہ کے روز مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف پارٹی کے ملک گیر احتجاجی مظاہرہ کو عوام مخالف مرکزی حکومت پر حملہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے جمعہ کی رات کیے گئے اپنے ایک ٹوئٹ میں سنسکرت کے کچھ الفاظ پیش کیے ہیں اور پھر لکھا ہے کہ ’’ملک بھر کے غریبوں اور متوسط طبقہ کے اوپر پڑ رہی مہنگائی کی مار کے خلاف لڑنا عوام حامی بھگوان رام کا دکھایا راستہ ہے۔ جو مہنگائی بڑھا کر غریب عوام کو تکلیف دیتا ہے وہ بھگوان رام پر حملہ کرتا ہے۔ جو مہنگائی کے خلاف تحریک کرنے والوں کو فریب کاری کہتا ہے وہ لوک نایک رام اور بھارت کے عوام کی بے عزتی کرتا ہے۔‘‘
مودی حکومت کے خلاف آج دہلی میں کانگریس کے زوردار مظاہرہ کے دوران حراست میں لیے گئے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت سبھی کانگریس اراکین پارلیمنٹ اور لیڈران کو پولیس حراست سے رِہا کر دیا گیا ہے۔ ان سبھی لیڈروں کو نیو پولیس لائن کنگزوے کیمپ پولیس تھانے میں رکھا گیا تھا۔ جب کانگریس لیڈران حراست سے نکل کر باہر آ رہے تھے تو انھوں نے نعرے بھی بلند کیے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات انھوں نے وزیر اعظم رہائش گاہ پر کی، حالانکہ اس ملاقات میں کیا بات چیت ہوئی، اس بارے میں کچھ بھی جانکاری حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کے دوران حراست میں لئے گئے راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور پارٹی کے متعدد ارکان پارلیمنٹ کو پولیس لائن کنگز وے کیمپ پولیس اسٹیشن پر نظر بند رکھا گیا ہے۔
مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کے دوران راہل گاندھی سمیت کانگریس کے جن ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لیا گیا تھا انہیں کنگز وے کیمپ پولیس لائن میں رکھا گیا ہے۔
پرینکا گاندھی کو بھی دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ جس وقت انہیں حراست میں لیا گیا وہ کانگریس دفتر کے باہر احتجاج کر رہی تھیں۔ خاتون پولیس اہلکاروں نے اس دوران ان کے ساتھ نازیبا سلوک کیا اور گھسیٹ کر کار میں ڈالا۔
مہنگائی، بے روزگاری اور جی ایس ٹی کے غلط نفاذ کے خلاف کانگریس کا ملک گیر احتجاج جاری ہے۔ دریں اثنا، دہلی پولیس نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی سمیت متعدد پارٹی لیڈران کو حراست میں لے لیا، جس کے بعد کانگریس کے کئی ممبران پارلیمنٹ وجے چوک پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔
راہل گاندھی کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس سے راشٹرپتی بھون تک مارچ نکال رہے تھے لیکن پولیس نے انہیں وجے چوک پر ہی روک دیا اور راہل گاندھی سمیت کئی لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولس نے کانگریس کو اس مارچ کی اجازت نہیں دی تھی اور علاقے میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔
کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے مہنگائی اور بے روزگاری پر احتجاج درج کرانے کے لئے پارلیمنٹ تک مارچ شروع کیا، تاہم انہیں پولیس نے بیچ میں ہی روک دیا۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راجیو شکلا نے کہا ’’ہم لوگ صدارتی محل جانے کے لئے مارچ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پولیس نے دفعہ 144 کا حوالہ دے کر روک دیا۔ ہم تمام ارکان پارلیمنٹ گرفتاری دیں گے۔ ہم عوام کو بے روزگاری اور مہنگائی سے راحت دلا کر رہیں گے۔‘‘
مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف کانگریس پارٹی کا ملک گیر احتجاج جاری ہے۔ اسی کے تحت پارٹی کارکنان دہلی کانگریس کے دفتر کے باہر احتجاج کر رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق متعدد کارکنوں کو پولس نے حراست میں لے لیا۔
راہل گاندھی نے پریس کانفرنس سے کہا کہ میں مہنگائی پر بولتا ہوں، بے روزگاری پر بولتا ہوں، میں سچ بولتا ہوں تو میرے پیچھے ایجنسیاں لگا دی جاتی ہیں۔ لیکن میں سچ بولنے سے نہیں ڈرتا۔ میں جتنا سچ بولوں گا، مجھ پر اتنے ہی حملے ہوں گے لیکن میں ان سے نہیں ڈرتا۔
پریس کانفرنس سے راہل گاندھی نے کہا آج دنیا میں سب سے زیادہ بے روزگاری ہندوستان میں ہے۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، گیس سلنڈر کے داموں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آپ کسی بھی گاؤں، قصبہ یا شہر میں چلے جائیں لوگ بتائیں گے کہ آج سب سے زیادہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت میں حزب اختلاف آئینی اداروں کی مدد سے لڑتی ہے لیکن آج وہ تمام ادارے حکومت کو پوری حمایت دے رہے ہیں۔ کیونکہ حکومت نے اپنے لوگ اداروں کے اندر بیٹھا دئے ہیں۔ ہندوستان کا آج کوئی بھی ادارہ آج آزاد نہیں ہے۔ آر ایس ایس کا ایک آدمی ہر ادارے میں بیٹھا ہے۔ ہم آج ایک پارٹی کے خلاف نہیں بلکہ پورے ڈھانچے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اگر کوئی دوسری سیاسی جماعت کو حمایت کرنا چاہے تو اس کے خلاف ای ڈی لگا دی جاتی ہے، سی بی آئی لگا دی جاتی ہے اور اسے ڈرایا، دھمکایا جاتا ہے۔ اس لئے حزب اختلاف کے کھڑے ہونے کے بعد بھی جو اثر ہونا چاہئے وہ نظر نہیں آ رہا۔
کانگریس کے ملک گیر احتجاج کے تحت راہل گاندھی نے پارٹی کے دفتر پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں جمہوریت کی موت ہو چکی ہے۔ جو اس ملک میں 70 سالوں میں بنایا گیا تھا اسے 8 سال میں ختم کر دیا گیا ہے۔ آج ہندوستان میں جمہوریت نہیں ہے بلکہ 4 لوگوں کی تاناشاہی ہے۔ ہم مہنگائی، بے روزگاری، سماج کو تقسیم کرنے پر یہاں اور پارلیمنٹ میں بحث کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں بولنے نہیں دیا جاتا بلکہ ہمیں گرفتار کیا جاتا ہے۔
مہنگائی کے خلاف کانگریس کے ہلہ بول کے پیش نظر دہلی میں پارٹی کے صدر دفتر کے باہر چپے چپے پر پولیس اہلکار تعینات کر دئے گئے ہیں۔ کانگریس کے ٹوئٹر ہینڈل سے پولیس اور سیکورٹی فورسز کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’حکومت سمجھتی ہے کہ اتنی پولیس فورس دیکھ کر ہم ڈر جائیں گے، لیکن ہم ڈرنے والے نہیں اور عوام کی آواز ضرور اٹھائیں گے۔‘‘ دریں اثنا، پارٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ راہل گاندھی کچھ ہی دیر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرنے جا رہے ہیں۔
کانگریس پارٹی کی جانب سے آج مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ احتجاج کے پیش نظر پولیس نے پوری راجدھانی میں سخت حفاظتی بندوبست کئے ہیں۔ اکبر روڈ پر کانگریس کے دفتر کے قریب، جہاں پارٹی کارکنان کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، بیریکیڈنگ کی گئی ہے اور بھاری تعداد میں پولیس اہلکار نعینات کئے گئے ہیں۔ دریں اثنا جنتر منتر کے علاقہ کو چھوڑ کر پورے نئی دہلی ضلع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 05 Aug 2022, 9:18 AM IST