
کسان، فائل تصویر آئی اے این ایس
کسان تنظیموں نے منگل کے روز اپنے احتجاج کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ اب کسان کل بروز بدھ دوبارہ دہلی کی جانب مارچ کریں گے۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایکس پر پوسٹ میں کہا، ’’کسان بھائیو، آج ایک تاریخی دن ہے۔ کانگریس نے سوامی ناتھن کمیشن کے مطابق فصلوں پر ہر کسان کو ایم ایس پی کی قانونی ضمانت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قدم 15 کروڑ کسان خاندانوں کی خوشحالی کو یقینی بنا کر ان کی زندگیوں کو بدل دے گا۔ انصاف کے راستے پر کانگریس کی یہ پہلی ضمانت ہے۔‘‘
ہزاروں کی تعداد میں کسان پنجاب سے دہلی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور شمبھو بارڈر پر مشکل حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ مظاہرین بیریکیڈس ہٹا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، لیکن پولیس کے ذریعہ پہلے کسانوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے، اور اب تازہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ ان پر پانی کی بوچھار کی جا رہی ہے۔ ان مشکل حالات کے باوجود کسان مظاہرین پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ کسان مظاہرین ٹریکٹرس پر چھ ماہ کا راشن لے کر گھر سے نکلے ہیں اور دہلی پہنچ کر اپنی آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔
ہریانہ-پنجاب شمبھو بارڈر پر گزرتے وقت کے ساتھ حالات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ شمبھو بارڈر پار کرنے کی کوشش کر رہے مظاہرین کسانوں نے اپنے ٹریکٹرس کے ذریعہ سیمنٹ کے بریکیڈس کو جبراً ہٹا دیا ہے۔ اس کی ویڈیو خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کی ہے۔ ویڈیو میں کسان مظاہرین کی بڑی تعداد میں شمبھو بارڈر پر جمع دکھائی دے رہی ہے۔
شمبھو بارڈر پر کسانوں کا مظاہرہ جاری ہے اور حالات کشیدہ ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ کسان پرامن انداز میں دہلی کی طرف بڑھ رہے تھے، لیکن بارڈر پر انھیں روکا گیا جس سے حالات خراب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ یہاں کسان اور جوان آمنے سامنے ہیں۔ پولیس پر پتھراؤ کی خبریں موصول ہو رہی ہیں، جس کے بعد پولیس نے کئی بار آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ آنسو گیس کے گولوں کے سبب کسان ایک بار پیچھے ہٹے، لیکن دھواں کم ہوتے ہی کسان پھر سامنے آ گئے۔ موقع پر ہزاروں کسان موجود ہیں اور یہ بھی خبریں آ رہی ہیں کہ فتح گڑھ صاحب سے پانچ ہزار سے زیادہ ٹریکٹر ابھی راستے میں ہیں۔
کسانوں کا دہلی مارچ ہریانہ کے انبالہ ہائیوے تک پہنچ گیا ہے۔ کسان لگاتار ٹریکٹر سے دہلی کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔ کسانوں کے قافلہ میں کئی گاڑیاں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ کسان اپنے ساتھ ضرورت کے کئی سامان بھی لیے ہوئے ہیں۔ ہزاروں ٹریکٹر کے پہیے دہلی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ دہلی بارڈر پر پہنچنے کے بعد انھیں کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پنجاب کے کسان ’دہلی چلو مارچ‘ کے تحت راج پورہ بائپاس سے نکل چکے ہیں۔ پنجاب پولیس نے انھیں ہریانہ کے انبالہ سے دہلی کی طرف جانے کی اجازت دے دی ہے۔
کسان تنظیموں کے ذریعہ ’دہلی چلو‘ احتجاجی مارچ پر کانگریس جنرل سکریٹری (مواصلات) جئے رام رمیش کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’مودی حکومت کی طرف سے مکمل کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ (کسان) دہلی نہ آئیں۔ یہ مودی حکومت کی منشا کو ظاہر کرتا ہے کہ کس غیر جمہوری طریقے سے کسانوں کو روکا جا رہا ہے۔ جب وزیر اعظم نے تین زرعی قوانین کو واپس لیا تھا تو انھوں نے کسان تنظیموں سے کچھ وعدے کیے تھے جو پورے نہیں ہوئے۔‘‘
مرکزی حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان مذاکرہ ناکام ہونے کے بعد شمبھو بارڈر پر ٹریکٹر پہنچنے شروع ہو گئے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات نہیں مانے جاتے، وہ اپنا ’دہلی چلو مارچ‘ جاری رکھیں گے۔ مظاہرہ کو دیکھتے ہوئے پوری دہلی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ 12 فروری سے 12 مارچ تک دفعہ 144 کا نفاذ رہے گا۔ پولیس کمشنر سنجے اروڑا کی طرف سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ اس دوران لوگوں کے اکٹھا ہونے، ریلیاں کرنے اور لوگوں کو لانے و لے جانے والی ٹریکٹر ٹرالیوں پر روک رہے گی۔
کسان تنظیموں کے ذریعہ ’دہلی چلو‘ مارچ کو لے کر دہلی میں سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ خصوصاً دہلی کی سرحدوں پر پولیس مستعد ہے۔ غازی پور بارڈر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں کسانوں کو روکنے کے لیے راستہ بلاک کیا گیا ہے اور ٹریفک کی چکنگ بھی سخت کر دی گئی ہے۔ اس وجہ سے ٹریفک جام کا نظارہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔
پاکستان میں عام انتخاب کے نتائج برآمد ہونے میں تاخیر کے بعد اب حکومت سازی کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ کسی بھی پارٹی کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہو پائی ہے اس لیے حکومت کس کی بنے گی، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ہے۔ اس درمیان امریکہ کی وزارت خارجہ نے واضح بیان دیا ہے کہ وہ پاکستان میں برسراقتدار ہونے والی کسی بھی حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکہ میں وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے میڈیا کو بتایا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان میں کوئی نئی حکومت بنی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اب بھی اس پر تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔ لیکن ایک بات واضح کرتا ہوں کہ پاکستان کی عوام جسے بھی منتخب کرے گی، ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 13 Feb 2024, 8:22 AM IST