
دہلی پولس کے اسپیشل سیل نے دہلی فسادات کی سازش رچنے سمیت کئی الزام میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دو طلبا سے آج پوچھ گچھ کی ہے ۔
اسپیشل سیل نے جامعہ کے دو طلبا سویش ترپاٹھی اور ارسلان احمد کو جانچ میں شامل ہونے کے لئے منگل کو سمن جاری کیا تھا اور بدھ کے روز ایک بجے دن میں لودھی روڈ واقع سیل کے دفتر میں طلب کیا تھا۔ دونوں طلبا سے کافی دیر تک پوچھ گچھ کرنے کے بعد رات ساڑھے 9 بجے چھوڑ دیا گیا ۔ سویش قانون کا طالب علم ہے جبکہ ارسلان سوشل ورک میں ایم اے کررہا ہے۔ ا س سے پہلے اسپیشل سیل نے ایف آئی آر 59/20 کے تحت جامعہ کے طلبا میران حیدر، صفورہ زرگر، سابق طلبا شفیع الرحمان خاں،جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی دو طالبات دوانگنا کلتا، نتاشا نروال کوگرفتاری کیا ہے جن میں سے صفورہ زرگر کودہلی ہائی کورٹ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضمانت دے دی ہے۔
اب سبھی سرکاری بینک (اربن کوآپریٹو بینک ہو یا ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو بینک) ریزرو بینک کے سپر ویژن پاور میں آ جائیں گے۔ اس سلسلے میں آج مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں آرڈیننس کو منظوری مل گئی۔ مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے اس سلسلے میں کہا کہ 1482 اَربن یعنی شہری کوآپریٹو بینکوں اور 58 ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو بینکوں سمیت سرکاری بینکوں کو اب آر بی آئی کی سپرویژن کے تحت لایا جا رہا ہے۔
مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے آج میڈیا کو یہ جانکاری دی کہ مرکزی کابینہ نے اتر پردیش واقع کشی نگر ہوائی اڈہ کو بین الاقوامی ہوائی اڈہ قرار دینے کو منظوری دے دی ہے۔ اس اعلان کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔
ہندوستان میں گزشتہ کچھ دنوں سے کئی ریاستوں میں زلزلہ کا جھٹکا محسوس کیا گیا ہے۔ میزورم میں تو گزشتہ چار دنوں میں چار مرتبہ زلزلہ آیا جس سے لوگوں میں کافی خوف ہے، اور اب آج دوپہر ہریانہ میں زلزلہ آنے سے لوگوں میں دہشت کا ماحول ہے۔ حالانکہ ہریانہ میں زلزلہ کی شدت 2.8 تھی اور کسی طرح کے جانی و مالی نقصان کی خبر نہیں ہے، لیکن ہندوستان میں بار بار آ رہے زلزلوں کے پیش نظر لوگوں میں خوف پیدا ہو گیا ہے۔
راجستھان کے لوگ ٹڈی دل کے حملے سے پریشان ہیں اور خصوصی طور پر کسانوں کو اپنی فصل کے نقصان کا ڈر ستا رہا ہے۔ آج صبح راجستھان میں جے پور واقع فاگی علاقہ میں ٹڈی دل نے حملہ کر دیا۔ اس سے بچاؤ کے لیے دوائی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ دوائی کا چھڑکاؤ ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ کی ٹیم کر رہی ہے۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار پھر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس بار انھوں نے چین کے تعلق سے مودی حکومت کو نہیں گھیرا بلکہ کورونا بحران اور پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کو لے کر حملہ کیا ہے۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ "مودی حکومت نے کورونا وبا اور پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں کو 'اَن لاک' کر دیا ہے۔" اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی نے ایک گراف بھی پیش کیا ہے جس میں کورونا، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو اونچائیاں چھوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف آج مدھیہ پردیش میں کانگریس کے سینئر لیڈر دگوجے سنگھ اور دیگر لیڈروں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ روشن پورہ چوراہے سے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ تک سائیکل مارچ کے ذریعہ کیا گیا۔ اس موقع پر دگوجے سنگھ نے کہا کہ "آج جب عوام کورونا بحران سے پریشان ہے، مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، لوگ بھوکے مر رہے ہیں، ایسے وقت میں مرکزی حکومت نے لگاتار 18ویں دن ایکسائز ڈیوٹی بڑھائی ہے۔" انھوں نے مزید کہا کہ "جیسا کہ مودی جی کہتے ہیں- آفت میں مواقع، ان کے لیے کورونا آفت میں موقع ہے پیسہ کمانے کے لیے۔"
کورونا بحران کی وجہ سے گزشتہ 3 مہینے سے بند پنجاب واقع لدھیانہ کی سبزی منڈی عام لوگوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔ اس درمیان لوگوں کی زبردست بھیڑ منڈی میں سبزی کی خریداری کرتے ہوئے نظر آئی۔ سوشل ڈسٹنسنگ کی دھجیاں بھی اڑتی ہوئی دیکھی گئیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا انفیکشن کے معاملوں نے ہندوستان میں پھر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایک دن میں 15968 نئے کیسز درج کیے گئے ہیں اور اس دوران 465 لوگوں کی موت بھی واقع ہو گئی ہے۔ اس طرح سے ملک میں اب مجموعی طور پر مریضوں کی تعداد 456183 ہو گئی ہے جب کہ مہلوکین کی مجموعی تعداد 14476 پہنچ گئی ہے۔
ہندوستان میں عوام پر مہنگائی کی مار جاری ہے۔ آج لگاتار 18ویں دن ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے، حالانکہ سکون کی بات یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق آج ملک کی راجدھانی دہلی میں ڈیزل کی قیمت میں 48 پیسہ فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 24 Jun 2020, 8:45 AM IST