خبریں

ہند-امریکہ فوجی مشق: جنگ کے نئے چیلنجز کو پیش نظر رکھتے ہوئے اے آئی-ڈرون اور الیکٹرانک وارفیئر پر زور

ہند-امریکہ فوجی مشق کے ذریعہ دونوں افواج کو پہاڑی جنگ، الیکٹرانک وارفیئر، ڈرون اور اے آئی جیسے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ہند-امریکہ فوجی مشق، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/adgpi">@adgpi</a></p></div>

ہند-امریکہ فوجی مشق، تصویر ’ایکس‘ @adgpi

 

ہندوستان اور امریکہ کی فوجیں مشترکہ فوجی مشق ’یدھ ابھیاس 2026‘ کے دوران جدید جنگ کے چیلنجوں اور نئی فوجی ٹیکنالوجی سے متعلق اپنے تجربات کا اشتراک کر رہی ہیں۔ اتراکھنڈ کے اولی میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان ’کمانڈ پوسٹ ایکسرسائز‘ (سی پی ایکس)، ماہرین کی بات چیت اور فوجی ٹیکنالوجی سے متعلق تجربات کا تبادلہ کیا گیا۔ اس دوران ملٹی ڈومین وارفیئر، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی)، ڈرون، سائبر آپریشن اور الیکٹرانک وارفیئر جیسے اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال ہو رہا ہے۔ اس کا مقصد چیلنجنگ جنگی حالات میں دونوں افواج کے درمیان بہتر تال میل اور مشترکہ سمجھ پیدا کرنا ہے۔

اولی میں منعقدہ ماہرین کی بات چیت میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ جی پی ایس میں خلل پڑنے یا دشمن کی جانب سے الیکٹرانک وارفیئر کیے جانے کی صورت میں فوجی کس طرح آپریشن جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اے آئی کی مدد سے خفیہ معلومات کا تجزیہ، دشمن کے ڈرون کو روکنے کی ٹیکنالوجی یعنی کاؤنٹر ڈرون سسٹم اور سائبر صلاحیتوں کے استعمال پر بھی تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔ فوجی مشق کے دوران دونوں افواج یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ مواصلاتی نظام میں خلل، ڈرون کے بڑھتے ہوئے استعمال اور الیکٹرانک حملوں کے درمیان فوجی آپریشن کو مؤثر طریقے سے کیسے انجام دیا جا سکتا ہے۔

اولی میں دونوں افواج کے ماہرین ہائی ایلٹی ٹیوڈ یعنی زیادہ بلندی والے علاقوں اور انتہائی سرد موسم میں آپریشن کرنے کے تجربات بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ اس میں بلند علاقوں میں فوجیوں کو طبی امداد فراہم کرنا، فوجی طیاروں اور ہیلی کاپٹرس کا مؤثر استعمال، مارٹر اور سنائپرس کی تعیناتی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سائبر آپریشن، نفسیاتی مہمات اور الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے معلومات پر مبنی آپریشن کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال ہو رہا ہے۔

کمانڈ پوسٹ ایکسرسائز کے دوران دونوں ممالک کے فوجی کمانڈر اور اسٹاف افسران فرضی جنگی حالات میں مشترکہ منصوبہ بندی، فیصلے کرنے اور آپریشن کے تال میل کی مشق کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد پہاڑی اور نیم پہاڑی علاقوں میں مشترکہ فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور انہیں انجام دینے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مشترکہ فوجی مشق ’یدھ ابھیاس 2026‘ کا 22واں ایڈیشن 15 ستمبر کو اتراکھنڈ کے اولی اور راجستھان کے مہاجن فیلڈ فائرنگ رینج میں شروع ہوا۔ اس میں ہندوستانی فوج اور امریکی فوج کے 600-600 فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ مشق میں پیدل فوج پر مبنی آپریشن، انٹیگریٹیڈ بیٹل گروپ(آئی بی جی)، مشترکہ فوجی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔

حکمت عملی کے نقطۂ نظر سے اولی میں ہونے والی یہ بات چیت صرف فوجی مشق تک محدود نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ دونوں افواج کو پہاڑی جنگ، الیکٹرانک وارفیئر، ڈرون اور اے آئی جیسے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ اس سے باہمی تال میل، فوجی طریقۂ کار کی سمجھ اور پیشہ ورانہ تعاون کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔