
ہندوستان-امریکہ، تصویر آئی اے این ایس
ہندوستانی حکومت نے امریکی پارلمینٹ میں روس اور ایران پر نئی پابندیوں والے قانون کی منظوری کا نوٹس لیا ہے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں ہونے والی آئندہ پیش رفت پر نظر رکھ رہا ہے۔ ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ ملک کی 140 کروڑ سے زیادہ آبادی کی توانائی کی ضروریات پوری کرنا اس کی ترجیح ہے۔ امریکہ نئے قانون کے ذریعہ ہندوستان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی تیاری میں ہے۔ وزارت خارجہ نے جمعرات (17 ستمبر) کو اس معاملے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’ہندوستان اپنی توانائی کی حفاظت کے لیے مختلف ممالک سے تیل اور گیس خریدنا جاری رکھے گا اور بازار میں تبدیلی کے حساب سے فیصلے لے گا۔‘‘ ہندوستان کے مطابق اس معاملے پر حالیہ مہینوں میں امریکی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔ ہندوستان نے امریکہ کو یہ بھی بتایا ہے کہ ان پابندیوں کا اثر صرف ہندوستان-امریکہ تعلقات پر نہیں بلکہ پوری بین الاقوامی توانائی مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’حکومت ہندوستانی تجارتی اور صنعتی تنظیموں کے ساتھ مل کر ان حالیہ تبدیلیوں کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کی تیاری کرے گی۔‘‘ ہندوستان کا پیغام ہے کہ روس سے تیل خریدنے سمیت اس کی توانائی کی حفاظت سے متعلق فیصلے اس کے اپنے مفادات اور بازار کی صورتحال کو دیکھ کر لیے جائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی پارلیمنٹ میں روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف لگانے والا بل پاس ہو گیا ہے۔ یہ قانون صدر ٹرمپ کے دستخط کے بعد نافذ ہو جائے گا۔ ہندوستان اور چین سمیت کئی ممالک روس سے تیل خریدتے ہیں۔ امریکہ میں نئے قانون کے پاس ہونے کے بعد ٹرمپ کو 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان روس سے تیل خرید کر طویل عرصے سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرتا رہا ہے، لیکن اب اسی تیل کی خریداری کو لے کر امریکہ نے ہندوستان پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔