خبریں

ہندوستان بنا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ’الیکٹرک 2 وہیلر‘ مارکیٹ، ایک سال میں تقریباً 13 لاکھ دو پہیہ گاڑیاں ہوئیں فروخت

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سال 2025 کے دوران الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں تقریباً 15 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ اس مدت میں تقریباً ایک کروڑ الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں فروخت ہوئیں۔

<div class="paragraphs"><p>دو پہیہ الیکٹرک گاڑیاں، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

دو پہیہ الیکٹرک گاڑیاں، تصویر سوشل میڈیا

 

ہندوستان ایک بار پھر دنیا کی دوسری سب سے بڑی ’الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں‘ کی مارکیٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ 2025 میں دو پہیہ الیکٹرانک گاڑی کی فروخت معاملہ میں ہندوستان سے آگے صرف چین رہا ہے۔ جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق گزشتہ سال ملک میں الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں ترقی کی رفتار کافی سست رہی۔ اس کی بڑی وجہ سرکاری سبسڈی میں کمی اور نئے مقامی پیداوار کے قوانین کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ معلومات انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کی تازہ گلوبل ای وی آؤٹ لک رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سال 2025 کے دوران الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں تقریباً 15 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ اس مدت میں تقریباً ایک کروڑ الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ عالمی سطح پر دو پہیہ گاڑیوں کی مجموعی فروخت میں ان کا حصہ تقریباً 14 فیصد رہا۔ اس سے واضح ہے کہ دنیا تیزی سے الیکٹرک موبیلٹی کی طرف بڑھ رہی ہے۔

Published: undefined

اس شعبے میں چین کی برتری اب بھی برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین میں 2025 کے دوران 70 لاکھ سے زیادہ الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ وہاں مجموعی دو پہیہ گاڑیوں کی مارکیٹ میں الیکٹرک ماڈلز کا حصہ 55 فیصد سے بھی زیادہ رہا۔ چین میں سال بھر کے دوران الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔

Published: undefined

دوسری جانب ہندوستان کی صورت حال کچھ مختلف رہی۔ ہندوستان میں الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ضرور ہوا، لیکن رفتار کافی سست رہی۔ 2025 میں ملک میں تقریباً 13 لاکھ الیکٹرک دو پہیہ گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ یہ ملک میں دو پہیہ گاڑیوں کی مجموعی فروخت کا تقریباً 6 فیصد حصہ رہا۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی بازار ترقی کر رہا ہے، لیکن ترقی کی رفتار توقعات سے کم رہی۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ سبسڈی میں کمی رہی۔ پہلے فیم-II اسکیم کے تحت الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں پر فی کلوواٹ گھنٹہ کے حساب سے تقریباً 170 ڈالر تک امداد دی جاتی تھی۔ یہ گاڑی کی مجموعی قیمت کے تقریباً 40 فیصد حصے کا احاطہ کرتی تھی۔ اس سے صارفین کو الیکٹرک گاڑیاں خریدنے میں بڑی سہولت ملتی تھی۔ لیکن نئی پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم کے تحت سبسڈی میں نمایاں کمی کر دی گئی۔

Published: undefined

اس کے علاوہ نئی اسکیم میں مقامی مواد یعنی لوکل کنٹینٹ کا اصول بھی شامل کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کو گاڑیوں کی تیاری میں زیادہ مقامی پرزوں کا استعمال کرنا ہوگا۔ کئی کمپنیوں کے لیے ان ضوابط پر عمل کرنا آسان نہیں رہا، جس کے باعث سبسڈی حاصل کرنے والے ماڈلز کی تعداد بھی کم ہو گئی۔ ایک اور وجہ یہ رہی کہ روایتی پٹرول انجن والی دو پہیہ گاڑیوں پر ٹیکس کے ڈھانچے میں تبدیلی کے سبب ان کی قیمتیں زیادہ مسابقتی ہو گئی ہیں۔ اس سے بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کی قیمت کا فائدہ بھی کم ہو گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined