خبریں

ہندوستان اور پولینڈ کا 2030 تک دوطرفہ تجارت دوگنی کرنے کا ہدف، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی میں تعاون پر زور

پی ایم مودی اور ڈونالڈ ٹسک کے مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان ایف ٹی اے پر جلد دستخط، اس کی منظوری اور مقررہ وقت کے اندر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔

<div class="paragraphs"><p>نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹسک، تصویر سوشل میڈیا&nbsp;@narendramodi</p></div>

نریندر مودی اور ڈونالڈ ٹسک، تصویر سوشل میڈیا @narendramodi

 

وزیر اعظم نریندر مودی اور پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک نے جمعرات (22 اکتوبر) کو 2030 تک ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان دوطرفہ تجارت دوگنی کرنے کا ہدف مقرر کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں یہ اطلاع دی گئی۔ مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے ہندوستان اور یورپی یونین (ای یو) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر جلد دستخط، اس کی منظوری اور مقررہ وقت کے اندر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اس سے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، اہم ویلیو چین کو مزید متنوع اور مضبوط بنایا جا سکے گا اور نئی منڈیوں تک رسائی ممکن ہوگی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے پولینڈ کی کمپنیوں کو ہندوستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کی توسیع کے لیے مدعو کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی وسیع مارکیٹ، ہنرمند افرادی قوت، تیزی سے ترقی کرتا مینوفیکچرنگ سیکٹر اور اختراع پر مبنی نظام غیر ملکی کمپنیوں کے لیے بڑے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ڈونالڈ ٹسک نے پولینڈ میں ہندوستانی سرمایہ کاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پولینڈ، وسطی اور مشرقی یورپ کے ساتھ ساتھ وسیع یورپی مارکیٹ میں کاروبار پھیلانے کی خواہش مند ہندوستانی کمپنیوں کے لیے ایک اہم داخلی راستہ بن سکتا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے زراعت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے لیے دوطرفہ ورکنگ گروپ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی، جس سے زرعی تجارت اور تکنیکی تعاون کو نئی رفتار مل سکے گی۔ دونوں وزرائے اعظم نے ہندوستان-پولینڈ بزنس فورم کا بھی خیرمقدم کیا، جس میں دونوں ممالک کے سرکردہ صنعت کاروں اور کارپوریٹ نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے صنعت کاروں کو صنعتی مشینری، دفاع، بنیادی ڈھانچے، فارماسیوٹیکلز، کان کنی، اہم معدنیات، توانائی، اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) اور دیگر شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کی ترغیب دی۔

دونوں رہنماؤں نے مضبوط اور متنوع سپلائی چین، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو فروغ دینے، اختراع پر مبنی ترقی اور ڈیجیٹل تبدیلی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ فریقین نے تسلیم کیا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) معاشی ترقی، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں تبدیلی لانے والا اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ہندوستان-یورپی یونین کے وسیع تر اسٹریٹجک ایجنڈے کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک نے اے آئی، سیمی کنڈکٹر اور کوانٹم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق کو فروغ دینے اور اسٹارٹ اپ کے درمیان تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کاروباری اداروں، تحقیقی اداروں اور اختراعی نظام سے وابستہ فریقوں کے درمیان قریبی تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا۔

خلائی شعبے کو بھی اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ادارہ جاتی اور صنعتی سطح پر تعاون مضبوط کرنے اور باہمی فائدے کے خلائی منصوبوں کی نشاندہی کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ مشترکہ بیان میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے کو مستقبل میں تعاون کے لیے ایک اہم میدان قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے سرکلر اکانومی، بیٹری ری سائیکلنگ اور نایاب زمینی معدنیات (ریئر ارتھ منرلز) کی پروسیسنگ میں شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ارضیاتی سائنس، کان کنی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر بات چیت جاری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور پولینڈ کے درمیان براہ راست پروازوں کے امکانات کا خیرمقدم کیا اور سول ایوی ایشن اتھارٹیز کو اس سلسلے میں براہ راست بات چیت آگے بڑھانے کی ترغیب دی۔

اس کے ساتھ ہی سمندری نقل و حمل اور سمندری سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کو بھی روشنی ڈالی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ بندرگاہوں کے درمیان تعاون محفوظ، لچکدار اور مربوط سپلائی چین بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے نقل و حمل میں لگنے والا وقت کم ہوگا اور جغرافیائی و سیاسی رکاوٹوں کے دوران اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور (آئی ایم ای سی) جیسے اقدامات کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ بہتر کنیکٹیویٹی دونوں ممالک اور وسیع تر خطے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔