
آیت اللہ علی خامنہ ای / تصویر آئی اے این ایس
ایران کے سابق لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے تقریباً 4 ماہ بعد ان کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ 3 جولائی سے ان کے جسد خاکی کو مختلف علاقوں میں لے جایا جا رہا ہے اور اسے 9 جولائی، یعنی تدفین سے قبل ایران اور عراق کے کئی شہروں میں لے جایا جائے گا۔ واضح رہے کہ اسلام میں لاش کو عام طور پر جلد از جلد دفن کرنے کو کہا گیا ہے، لیکن خامنہ ای کی لاش 4 ماہ تک کولڈ اسٹوریج میں رکھی رہی۔ آئیے اس بارے میں شیعہ عالم کی آراء اور شیعہ مذہب میں دی گئی اس سے متعلق رخصت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
Published: undefined
دہلی میں اہل بیت ٹرسٹ کے صدر اور اہل بیت پبلک اسکول کے ڈائریکٹر، شیعہ اسلام کی گہری سمجھ رکھنے والے سید محمد عسکری کے مطابق جب کوئی ملک جنگ جیسے حالات کا سامنا کر رہا ہو تو تدفین میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں فوری طور پر دفن کرنا بہتر مانا جاتا ہے لیکن اگر غیر معمولی حالات کی وجہ سے جنازے اور تدفین کا عمل کسی بحران کا سامنا کر رہا ہو اور سیکورٹی کا بہت زیادہ خطرہ ہو تو اسے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کرنا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
Published: undefined
سید محمد عسکری نے 680 عیسوی میں کربلا کی جنگ کے بعد کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین کا جسد خاکی تدفین سے قبل 3 دنوں تک میدان جنگ میں رہا تھا۔ ان کی اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہر حالت میں، خاص طور پر جنگ اور تنازعہ کے وقت، فوری تدفین کو لازمی قرار نہیں دیتا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آخری رسومات کا بڑے پیمانے پر ہونا بھی تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہ جنازہ کسی معمولی انسان کا جنازہ نہیں ہے۔ ایران اور عراق میں جنازے میں کروڑوں سوگواروں کے شامل ہونے کی امید ہے۔ ایک جنازے کی خاطر ہزاروں لوگ مارے جائیں، کب کیا ہو جائے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
Published: undefined
اہل بیت ٹرسٹ کے صدر نے مزید کہا کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ سیکورٹی کے لحاظ سے انتہائی کشیدہ ہے۔ جنگی حالات رہے ہیں اور کون کب کس طرف سے حملہ کر دے، اس کا کچھ پتہ نہیں۔ ان کے مطابق جب حالات غیر معمولی ہوتے ہیں تو تدفین کے عمل کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ بیرون ملک جب کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تب بھی تدفین کے میں تاخیر ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کی اپنے وطن سے دور، کسی دوسرے ملک میں موت ہو جائے تو اس کا بھی جسد خاکی واپس منگوایا جاتا ہے اور ایسی صورت میں بھی تدفین کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں ہوئی تھی۔ دراصل امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ اس کے پہلے ہی دن تہران میں خامنہ ای کی سرکاری رہائش اور دفتر کو نشانہ بنا کر شدید بمباری کی گئی تھی۔ اس بمباری میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت ہو گئی تھی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined