خبریں

بھاگوت کے دورۂ امریکہ سے قبل امریکی ادارہ ’یو ایس سی آئی آر ایف‘ نے آر ایس ایس پر پابندی کا کیا مطالبہ

’یو ایس سی آئی آر ایف‘ کمشنر جین ملس نے کہا کہ ’’آر ایس ایس لیڈران ہندوستانی حکومت سے وابستہ ہوں تب بھی ان کے ساتھ اعلی سطحی میٹنگ یا انہیں سرکاری اعزاز دینے سے پرہیز کرنا چاہئے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت / ٹوئٹر / @RSSorg</p></div>

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت / ٹوئٹر / @RSSorg

 

امریکہ میں مذہبی آزادی پر کام کرنے والی تنظیم ’یو ایس سی آئی آر ایف‘ (مشاورتی ادارہ یو ایس کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی) کے عہدیداروں نے ’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘ (آر ایس ایس) پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے امریکی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس لیڈران کو سفارتی اعزازات نہ دیں، اور نہ ہی ان لوگوں کے ساتھ کوئی اعلی سطحی میٹنگ کریں۔ واضح رہے کہ یہ بیان آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے متوقع امریکہ دورے سے قبل آیا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستان پہلے ہی ’یو ایس سی آئی آر ایف‘ کی ایک رپورٹ کو متعصبانہ اور نظریاتی تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے خارج کر چکا ہے۔

’یو ایس سی آئی آر ایف‘ کے چیئرمین آصف محمود نے آر ایس ایس کو ایک ’امبریلا آرگنائزیشن‘ یعنی ایسی تنظیم بتایا ہے، جس کی کئی معاون تنظیمیں ہیں، اور اقلیتوں پر حملے کرنے کے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ بھاگوت 29 اگست کو نیویارک میں ’امریکن ہندوز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ‘ کی جانب سے منعقدہ ’یونیورسل یکجہتی کا جشن‘ میں شامل ہونے والے ہیں۔ ’یو ایس سی آئی آر ایف‘ کمشنر جین ملس نے اس بارے میں کہا کہ آر ایس ایس لیڈران ہندوستانی حکومت سے وابستہ ہوں، تب بھی ان کے ساتھ اعلی سطحی میٹنگ یا سرکاری اعزاز دینے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اس کے بجائے امریکی حکومت (یو ایس جی) کو ان آر ایس ایس اراکین پر پابندی لگانی چاہئے، جو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں۔

’یو ایس سی آئی آر ایف‘ نے آصف محمود اور جین ملس کے اس تبصرے کو اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر شیئر کیا ہے۔ ایڈوکیسی گروپ ’ہندوز فار ہیومن رائٹس‘ نے کہا کہ موہن بھاگوت کے دورے کو آر ایس ایس نیٹورک سے منسلک مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کے الزامات سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس ایڈوکیسی گروپ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ اتحاد کا جشن مذہبی برتری کی سیاست کو چھپا نہیں سکتا۔ اس طرح اس امریکی ادارہ نے ملک میں آر ایس ایس کی پذیرائی یا پھر اس کے کسی بھی رکن کی عزت افزائی کو نامناسب ٹھہرایا ہے۔

واضح رہے کہ مارچ میں جاری ’یو ایس سی آئی آر ایف‘ کی ایک سالانہ رپورٹ میں مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق ہندوستان کی تنقید کی گئی تھی۔ رپورٹ میں آر ایس ایس اور ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (آر اے ڈبلیو) سمیت کچھ لوگوں اور اداروں پر ’مبنی بر ہدف پابندیوں‘ کی حمایت کی گئی۔ ہندوستان نے ’یو ایس سی آئی آر ایف‘ کی اس رپورٹ کو خارج کردیا تھا۔ ہندوستان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ مسلسل ملک کی غلط شبیہ پیش کرتا ہے اور اس کی رپورٹس ’مشکوک ذرائع اور نظریاتی بیانیہ‘ پر مبنی ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے 16 مارچ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یو ایس سی آئی آر ایف‘ کو ہندوستان پر تنقید کرنے کے بجائے امریکی مندوروں میں توڑ پھوڑ کی مخالفت کرنی چاہئے۔ انہوں نے امریکہ کے ذریعہ ہندوستان کو خاص طور پر نشانہ بنانے اور امریکہ میں ہندوستانی نژاد لوگوں کے خلاف بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور دھمکیوں کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ ہندوستان نے ان مسئلوں پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی بات کہی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔