خبریں

جرمنی سے معاہدہ ٹوٹنے کے بعد فرانس نے ہندوستان سے ملایا ہاتھ، دونوں ممالک مل کر بنائیں گے ایڈوانس فائٹر جیٹ

وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے آئندہ دورۂ فرانس کے دوران دفاعی شعبہ میں مشترکہ ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ہندوستان-فرانس دفاعی معاہدہ، تصویر اے آئی</p></div>

ہندوستان-فرانس دفاعی معاہدہ، تصویر اے آئی

 

جرمنی اور فرانس کے درمیان ایک بڑا دفاعی معاہدہ ٹوٹ گیا ہے، جس نے ہندوستان کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کر دیا ہے۔ دونوں یوروپی ممالک مشترکہ طور پر ’فیوچر کومبیٹ ایئر سسٹم‘ (ایف سی اے ایس) کے تحت چھٹی نسل کا جنگی طیارہ تیار کرنے والے تھے۔ اس منصوبے میں شامل بڑی کمپنیوں کے درمیان اختلافات کے باعث یہ پروجیکٹ منسوخ ہو گیا ہے۔ اب فرانس اس دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے ہندوستان کی جانب دیکھ رہا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں ہندوستان اور فرانس کے وزرائے دفاع کے درمیان اس اہم شراکت داری پر ابتدائی بات چیت بھی ہو چکی ہے۔ یہ شراکت داری ہندوستانی فضائیہ کی قوت میں کئی گنا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کو خود کفیل بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

دراصل 2017 میں فرانس اور جرمنی نے مستقبل کے جنگی طیارے کی تیاری کا خاکہ بنایا تھا۔ لیکن اس منصوبے میں شامل ایئربس اور ڈسالٹ جیسی کمپنیوں کے درمیان ٹیکنالوجی کی شراکت اور تجارتی معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا۔ نتیجتاً یہ مشترکہ منصوبہ مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو گیا اور جرمنی اب ایک نئے کنسورٹیم کے ساتھ اپنی الگ راہ اختیار کر رہا ہے۔ دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق یہ یوروپی علیحدگی ہندوستان کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔ ہندوستان اپنے مقامی ’ایڈوانسڈ میڈیم کومبیٹ ایئرکرافٹ‘ (اے ایم سی اے) پروگرام کے تحت پانچویں نسل کے جنگی طیارے تیار کر رہا ہے، لیکن چھٹی نسل کے جدید جنگی طیاروں کے لیے اسے طویل عرصے سے ایک قابل اعتماد غیر ملکی شراکت دار کی تلاش تھی۔

Published: undefined

دفاعی شعبے میں طویل المدتی شراکت داری کے لیے سفارتی اعتماد سب سے اہم عنصر ہوتا ہے اور فرانس اس معیار پر پوری طرح پورا اترتا ہے۔ 35 ارب ڈالر کے ایک بڑے معاہدے کے تحت فرانسیسی رافیل جنگی طیاروں کی تیاری ہندوستان میں ہی کی جانی ہے۔ اس کے علاوہ فرانس جدید جیٹ انجن ٹیکنالوجی بھی ہندوستان کو منتقل کرنے جا رہا ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے رواں سال فروری میں اپنی فرانسیسی ہم منصب کیتھرین ووترین کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں چھٹی نسل کے جنگی طیارے کی مشترکہ تیاری کا موضوع نمایاں طور پر زیر بحث رہا۔ اس سے قبل ہندوستان نے جاپان، اٹلی اور برطانیہ کے ’گلوبل کومبیٹ ایئر پروگرام‘ (جی سی اے پی) کا بھی تکنیکی جائزہ لیا تھا، لیکن کئی ممالک کے اتحاد کے بجائے کسی ایک قابل اعتماد ملک کے ساتھ کام کرنا زیادہ محفوظ اور عملی سمجھا جا رہا ہے تاکہ آئندہ کسی باہمی اختلاف کے باعث منصوبہ درمیان میں نہ رک جائے۔

Published: undefined

بہرحال، چھٹی نسل کے جنگی طیاروں کی تیاری کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور انتہائی جدید تحقیق درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اور فرانس کا مشترکہ طور پر کام کرنا معاشی اعتبار سے بھی فائدہ مند سمجھا جا رہا ہے۔ اس وقت دنیا کا کوئی بھی ملک چھٹی نسل کا جنگی طیارہ عملی طور پر استعمال نہیں کر رہا۔ امریکہ اپنے ’نیکسٹ جنریشن ایئر ڈومیننس‘ (این جی اے ڈی) پروگرام پر کام کر رہا ہے، جبکہ چین نے بھی حال ہی میں چند جدید ماڈلز پیش کیے ہیں۔ امریکہ، چین اور روس پہلے ہی پانچویں نسل کے اسٹیلتھ اور بھاری ہتھیاروں سے لیس جنگی طیارے استعمال کر رہے ہیں۔

Published: undefined

وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے آئندہ دورۂ فرانس کے دوران دفاعی شعبہ میں مشترکہ ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ ٹیکنالوجی فضائی میدان میں ہندوستان کی دفاعی صلاحیت اور اثر و رسوخ کو یکسر بدل سکتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined