خبریں

’میٹا‘ کے ایک فیصلہ سے 1100 لوگوں کی ملازمت کو خطرہ، یہ سبھی اے آئی اور اسمارٹ چشموں پر کرتے ہیں کام

ان ملازمین کا کام میٹا اے آئی اور اسمارٹ گلاسیز سے لی گئی ویڈیوز اور تصویر کو اینالائز کرنا ہے، جس سے اے آئی ماڈل کی تربیت کی جا سکے۔ ان ملازمین کو آؤٹ سورسنگ فرم ’سما‘ نے تقرری دی تھی۔

میٹا، تصویر آئی اے این ایس
میٹا، تصویر آئی اے این ایس 

میٹا اے آئی گلاس کی لانچنگ کے ساتھ ہی رازداری کو لے کر سوالات اٹھنے لگے تھے، اور اب یہ تنازعہ بڑے پیمانے پر پہنچ چکا ہے۔ نئی معلومات کے مطابق میٹا گلاس کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے ڈاٹا کا جائزہ لینے والوں کی ملازمتیں ختم ہونے جا رہی ہیں۔ یہ افراد ڈاٹا اینوٹیٹرز کے طور پر کام کرتے تھے۔ ان کا کام ویژوئل مواد کو لیبل کرنا اور اے آئی کے جوابات کا جائزہ لے کر ان کی درستگی کو جانچنا تھا۔

Published: undefined

ڈاٹا ریویو کے دوران کئی بار لوگوں کی حساس تصویریں اور ویڈیوز بھی سامنے آ جاتی تھیں۔ ان ملازمین کا کام میٹا اے آئی اور اسمارٹ گلاسز کے ذریعے لی کی گئی ویڈیوز اور تصاویر کا تجزیہ کرنا تھا تاکہ اے آئی ماڈل کی تربیت کی جا سکے۔ ان ملازمین کو آؤٹ سورسنگ فرم ’سما‘ نے ملازمت دی تھی۔

Published: undefined

سویڈن کے ایک اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اے آئی ٹرینرز کے ذریعے کیے جانے والے ریویو میں کئی بار فوٹیج معمول سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملازمین جب ڈاٹا کا تجزیہ کرتے ہیں تو اس میں حساس ریکارڈنگز بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ ان میں لوگوں کو ٹوائلٹ استعمال کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ ایک ملازم نے کہا کہ وہ سب کچھ دیکھتے ہیں، یہاں تک کہ بیڈروم کی تصاویر بھی دیکھ چکے ہیں۔

Published: undefined

رپورٹس سامنے آنے کے بعد میٹا نے ’سما‘ کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا ہے۔ کمپنی نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’سما‘ اس کے مقررہ معیارات پر پورا نہیں اتر سکی۔ حالانکہ ’سما‘ نے میٹا کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ہمیشہ تمام پیرامیٹرز کی پابندی کی ہے، جن میں آپریشنل، سیکورٹی اور کوالٹی سے متعلق معیارات شامل ہیں۔ بہرحال، اس معاہدے کے خاتمے سے تقریباً 1100 ملازمین کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined