
مال بردار جہاز میں آگ کی علامتی تصویر، سوشل میڈیا
آبنائے ہرمز کے قریب جمعہ کو ایک بڑا حادثہ پیش آیا جس میں ایک شخص ہلاک اور کچھ دیگر زخمی ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لکڑی کے ایک مال بردار جہاز میں اچانک آگ لگ گئی اور پھر وہ بے قابو ہو کر غرقاب ہو گیا۔ اس حادثے میں ایک ہندوستانی ملاح کی موت ہو گئی، جبکہ 4 دیگر ہندوستانی زخمی ہو گئے۔ جہاز پر عملہ کے اراکین کی شکل میں 18 ہندوستانی موجود تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حادثہ کے بعد قریب سے گزر رہے ایک دوسرے جہاز نے فوراً مدد کی اور 17 ہندوستانیوں کو بچا لیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے دبئی لے جایا گیا ہے۔ سبھی کی حالت فی الحال مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
Published: undefined
جہاز میں آگ کیسے لگی، اس کی جانچ ابھی جاری ہے۔ یہ لکڑی کا ڈھو (مال بردار کشتی) عام سامان لے جا رہا تھا۔ حادثہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آیا، جسے دنیا کا ایک نہایت اہم سمندری راستہ مانا جاتا ہے۔ اسی راستے سے دنیا کے کئی ممالک تک تیل کی سپلائی ہوتی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے، جب آبنائے ہرمز کے آس پاس امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔ دبئی میں ہندوستانی قونصل خانہ کے افسران نے بچائے گئے ہندوستانیوں سے ملاقات کی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک چینی تیل بردار ٹینکر پر حملہ ہونے کے بعد جہاز کے عملہ میں خوف اور تناؤ بڑھ گیا ہے۔ چین کی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد کسی چینی تیل بردار ٹینکر پر یہ پہلا بڑا حملہ مانا جا رہا ہے۔ اس جہاز کا نام ’جے وی اینوویشنل‘ ہے۔ یہ تیل اور کیمیکل لے جانے والا بڑا ٹینکر ہے، جو مارشل آئی لینڈز کے جھنڈے کے تحت چلتا ہے۔
Published: undefined
جہاز تقریباً 173 میٹر لمبا ہے اور اسے 2004 میں بنایا گیا تھا۔ پیر کے روز جہاز نے آس پاس کے دوسرے جہازوں کو پیغام بھیج کر بتایا کہ اس کے ڈیک پر آگ لگ گئی ہے۔ جہاز کے چیف انجینئر لیو نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ حملہ کس نے کیا۔ یہ بھی معلوم نہیں چل سکا ہے کہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا یا کوئی حادثہ تھا۔ انہوں نے مطلع کیا کہ جہاز اُس وقت چل بھی نہیں رہا تھا، اس لیے کسی کو حملے کی توقع نہیں تھی۔ اس واقعہ میں کوئی زخمی نہیں ہوا، لیکن جہاز پر موجود سبھی لوگ کافی خوف زدہ ہیں۔ ٹینکر پر 22 لوگ سوار تھے، جن میں 10 سے زیادہ چینی شہری تھے۔ باقی عملہ میانمار اور انڈونیشیا کا تھا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا