
زومیٹو، تصویر/آئی اے این ایس
آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم زومیٹو نے اب ’کیش آن ڈیلیوری‘ (سی او ڈی) کا آپشن منتخب کرنے والے صارفین سے 5 روپے سے 20 روپے تک اضافی چارج لینا شروع کر دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مسابقت اور آمدنی کے ذرائع کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی کے تحت کمپنی اب آرڈر کے دوران ادائیگی کے طریقے سے بھی کمائی کرنے کی سمت میں قدم بڑھا رہی ہے۔ کمپنی کے ایپ پر دکھائی دینی والی بل کی تفصیلات کے مطابق ’پے آن ڈیلیوری فیس‘ نام سے یہ فیس الگ سے شامل کی جا رہی ہے۔ یہ فیس صرف ان صارفین پر نافذ ہو رہی ہے جو آن لائن ادائیگی کے بجائے ڈیلیوری کے وقت نقد ادائیگی کا آپشن منتخب کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق زیادہ تر معاملات میں یہ فیس 5 روپے ہے، حالانکہ کچھ آرڈرز میں صارفین سے 7 روپے اور کچھ معاملات میں 20 روپے تک بھی وصولے گئے ہیں۔ یہ نئی فیس زومیٹو کے پہلے سے نافذ پلیٹ فارم فیس، ریسٹورنٹ کی جانب سے وصول کی جانے والی پیکیجنگ فیس اور جی ایس ٹی سے الگ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ’کیش آن ڈیلیوری‘ آپشن منتخب کرنے والے صارفین کو اب مجموعی بل میں ایک اضافی رقم بھی ادا کرنی پڑے گی۔ دوسری جانب آن لائن ادائیگی کرنے والے صارفین سے یہ فیس نہیں لی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ زومیٹو روزانہ تقریباً 23 لاکھ سے 25 لاکھ فوڈ آرڈر پروسیس کرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ریپیڈو کا ’فوڈ ڈیلیوری برانڈ اونلی‘ تیزی سے بازار میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے اور فلپ کارٹ بھی اپنے ’ایٹ اِن‘ فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم کا تجربہ کر رہا ہے، زومیٹو آمدنی کے نئے ذرائع کی تلاش میں ہے۔ غورطلب ہے کہ فوڈ ڈیلیوری کمپنیوں نے 2023 میں پہلی بار پلیٹ فارم فیس عائد کرنا شروع کی تھی۔ اس کی شروعات سویگی نے 2 روپے فی آرڈر سے کی تھی۔ بعد میں کمپنی نے پلیٹ فارم فیس میں مسلسل اضافہ کیا اور رواں سال اسے 12.50 روپے سے بڑھا کر 14.99 روپے فی آرڈر کر دیا۔ اس پر جی ایس ٹی الگ سے لیا جاتا ہے۔ موجودہ آرڈر والیوم کو دیکھتے ہوئے فیس میں معمولی اضافہ بھی کمپنی کے لیے سالانہ بنیاد پر سینکڑوں کروڑ روپے کی اضافی آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اس دوران زومیٹو حالیہ مہینوں میں اخراجات پر قابو پانے اور آپریشنل تنظیم نو پر بھی کام کر رہی ہے۔ اگست میں سامنے آئی ایک رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اپنے تنظیمی ڈھانچے کا جائزہ لینے کے بعد تقریباً 250 ملازمین کو کمپنی سے نکال دیا تھا۔ اسی عمل کے تحت کمپنی نے حیدرآباد میں واقع کسٹمر ڈیلائٹ آپریشنز کو بند کرنے اور اپنی باقی اِن-ہاؤس کسٹمر سپورٹ سرگرمیوں کو گروگرام میں یکجا کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔