قومی خبریں

اجمیر شریف میں صوفی رنگ میلے کا دوسرا دن، کم عمر خطاطوں کی تخلیقات بنیں مرکز نگاہ

اجمیر شریف میں صوفی رنگ میلے کے دوسرے روز کم عمر خطاطوں کی تخلیقات نے زائرین کی توجہ حاصل کی۔ 43 فنکاروں کی شرکت والے میلے میں مختلف ریاستوں سے آئے فنکاروں نے مذہبی موضوعات پر فن پارے پیش کیے

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا / اے آئی سے بہتر شدہ</p></div>

تصویر سوشل میڈیا / اے آئی سے بہتر شدہ

 

اجمیر: اجمیر شریف میں جاری 18ویں بین الاقوامی صوفی رنگ میلے کے دوسرے روز روحانی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ خطاطی کے فن نے خصوصی توجہ حاصل کی۔ محفل خانے میں منعقدہ فن پاروں کی نمائش میں مختلف ریاستوں سے آئے فنکاروں، بالخصوص کم عمر طالبات کی خطاطی نے زائرین اور سیاحوں کو متاثر کیا۔ قرآن مجید کی آیات اور مذہبی موضوعات پر مبنی ان تخلیقات میں روایتی خطاطی کے ساتھ فنکاروں کی تخلیقی صلاحیت بھی نمایاں رہی۔

پانچ روزہ میلے میں ہندوستان کے مختلف حصوں کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے فنکار بھی شریک ہیں۔ مجموعی طور پر 43 فنکار اپنی تخلیقات پیش کر رہے ہیں۔ فیسٹیول ڈائریکٹر عظیم احمد کے مطابق کولکاتا، مہاراشٹر، اتر پردیش، گجرات، تلنگانہ اور راجستھان سمیت متعدد ریاستوں اور شہروں سے فنکار اجمیر پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میلے کا مقصد صوفی روایت کے ساتھ فنونِ لطیفہ کو بھی ایک مشترکہ ثقافتی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

اتر پردیش کے گورکھپور سے آئی دلینور فاطمہ پہلی مرتبہ اس میلے میں شریک ہوئی ہیں۔ اپنی خطاطی کے فن پاروں کی نمائش پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسرے فنکاروں کے ساتھ اپنی تخلیقات پیش کرنا ان کے لیے ایک یادگار تجربہ ہے۔ ان کے فن پاروں کو دیکھنے کے لیے میلے میں آنے والے زائرین نے خاص دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

ممبئی سے تعلق رکھنے والی حافظہ تسلیم بھی نمائش میں اپنی تخلیقات کے ساتھ شریک ہیں۔ انہوں نے کم عمری میں قرآن مجید حفظ کیا اور بعد میں خطاطی کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے سنہری رنگوں کے استعمال سے مذہبی موضوعات پر مبنی فن پارے تیار کیے ہیں، جن میں خطاطی اور مصوری کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔

مغربی بنگال سے آنے والی عائشہ صدی عربی خطاطی کے فن سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اجمیر میں اپنے فن پاروں کی نمائش کی ہے۔ ان کی تخلیقات میں روحانی سکون اور مذہبی پیغام کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ان فن پاروں کی تیاری میں برسوں کی محنت اور مشق شامل ہے۔

ممبئی کی محسنہ منصوری اور مدینہ الفیہ بھی میلے میں اپنی خطاطی اور فن پاروں کے ساتھ شریک ہوئی ہیں۔ فنکارہ علیزہ رفعت کے لیے یہ سفر خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ وہ پہلے اس میلے میں بطور زائر شرکت کیا کرتی تھیں، تاہم گزشتہ تین برس سے خود خطاطی سیکھ کر پینٹنگز اور فن پارے تیار کر رہی ہیں۔ اس بار اپنی تخلیقات کو اسی میلے میں پیش کرنا ان کے لیے ایک مختلف نوعیت کا تجربہ ہے۔

میلے کے دوسرے روز محفل خانے میں آنے والے زائرین نے نہ صرف فن پاروں کا مشاہدہ کیا بلکہ کئی کم عمر فنکاروں سے ان کی تخلیقات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں۔ خطاطی کے عملی مظاہروں اور فن پاروں کی نمائش نے میلے کے ثقافتی پہلو کو مزید نمایاں کیا۔

گزشتہ روز میلے کے افتتاح پر 50 ہزار سے زائد زائرین کی شرکت نے اجمیر شریف میں اس عالمی ثقافتی اجتماع کی مقبولیت کا اندازہ پیش کیا تھا۔ پہلے روز نعت، صوفیانہ کلام، محفلِ سماع اور خطاطی کے ساتھ دو نایاب قرآن مجید بھی زائرین کی توجہ کا مرکز رہے تھے۔ دوسرے روز ان سرگرمیوں کے ساتھ مختلف علاقوں سے آنے والے نوجوان فن کاروں کی شرکت نے میلے کو نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں سے بھی جوڑ دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔