
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
نیٹ پیپر لیک اور طلبا تحریک پر ہوئی پولیس کارروائی کو لے کر سیاست مسلسل گرماتی جا رہی ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے ایک بار پھر مرکزی حکومت، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ایک طرح سے نریندر مودی اور امت شاہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جین-زی کو قطعی دھمکا نہیں سکتے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی تازہ پوسٹ میں حکومت پر طلبا کی آواز دبانے اور جابرانہ پالیسیاں اختیار کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’پی ایم مودی اور امت شاہ... آپ جین-زی کو دھمکا کر خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں اور اب آپ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کروا رہے ہیں۔‘‘ حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’آپ ہندوستان کا ماضی ہیں۔ ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ آپ کیسا سلوک کر رہے ہیں، اس کو لے کر ذرا محتاط رہیے۔‘‘
دراصل نیٹ امتحان میں ہوئی بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف حال ہی میں ملک بھر کے نوجوانوں (جین-زی) نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا تھا۔ دہلی کے جنتر منتر پر جاری طویل تحریک اور 20 جولائی کے ’پارلیمنٹ چلو‘ مارچ کے دوران پولیس کی جانب سے طلبا پر بربریت کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ لاٹھی چارج اور پیلیٹ گن کے استعمال کا معاملہ تو اتنا طول پکڑ چکا ہے کہ اس کی وجہ سے پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ حال ہی میں خبر آئی تھی کہ پولیس نے کئی مظاہرین طلبا کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں اور تحریک سے وابستہ کئی سوشل میڈیا ہینڈلز کو بلاک/ٹیک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ اسی تعلق سے راہل گاندھی نے مودی حکومت کو ایک بار پھر نشانے پر لیا ہے۔ انھوں نے طلبا کے خلاف کارروائی کو ناقابل برداشت ٹھہرایا ہے اور مرکزی حکومت پر نوجوانوں کے مستقبل و جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔