قومی خبریں

’آپ کی جگہ جیل میں ہے‘، چیک باؤنس معاملے میں اداکار راجپال یادو پر سپریم کورٹ سخت

10 جولائی 2026 کو دہلی ہائی کورٹ نے اداکار راجپال یادو کو 3 مہینے کی جیل اور تمام 7 معاملات میں 1.35 کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>راج پال یادو کی فائل تصویر، آئی اے این ایس</p></div>

راج پال یادو کی فائل تصویر، آئی اے این ایس

 

چیک باؤنس کے 7 معاملات میں قصوروار بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو سپریم کورٹ نے سخت پھٹکار لگائی ہے۔ عدالت کے گزشتہ حکم کے مطابق آج راجپال یادو کو کم از کم 2 کروڑ روپے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ پیش کرنا تھا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ججوں نے کہا کہ ان کے طرز عمل سے عدالت کے تئیں احترام نظر نہیں آتا۔ عدالت نے راجپال یادو کو ایک اور موقع دیتے ہوئے بدھ کو آئندہ سماعت کی بات کہی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف راجپال یادو کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ 10 جولائی 2026 کو دہلی ہائی کورٹ نے انہیں 3 مہینے کی جیل اور تمام 7 معاملات میں 1.35 کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی تھی۔

سپریم کورٹ نے 8 ستمبر کو راجپال یادو کو جیل جانے سے عبوری راحت دیتے ہوئے 5 کروڑ روپے اپنی رجسٹری میں جمع کرنے کی شرط رکھی تھی۔ 15 ستمبر کو انہوں نے کہا تھا کہ وہ کچھ جائیدادوں کو فروخت کر کے رقم جمع کر رہے ہیں۔ آئندہ سماعت میں وہ 2 کروڑ روپے کا ڈرافٹ عدالت کو سونپیں گے۔ اس کے بعد عدالت نے ان کی عبوری راحت کو 5 اکتوبر تک کے لیے بڑھا دیا تھا۔ پیر (5 اکتوبر) کو معاملے کی سماعت کے دوران راجپال یادو کے وکیل نے 50 لاکھ روپے کے ڈیمانڈ ڈرافٹ کی کاپی عدالت میں پیش کی۔ اس پر بنچ نے سوال اٹھایا کہ جب 5 کروڑ روپے جمع کرنے کا حکم دیا تھا تو صرف 50 لاکھ روپے کیوں؟ عدالت نے کہا کہ انہیں 2 ہفتے کا وقت دیا گیا تھا اور اب وہ وقت ختم ہو چکا ہے۔

جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کی جگہ جیل میں ہے۔ آپ کے ٹال مٹول والے رویے کو یہ سوچ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ شکایت کنندہ کو کچھ رقم مل سکے گی۔ اب آپ کی عرضی کو خارج کرنے پر غور کیا جائے گا۔‘‘ راجپال یادو کے وکیل نے 50 لاکھ کی عبوری ادائیگی کو درست ٹھہراتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ غریب نہیں ہے۔ اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ’’وہ کم از کم اتنے غریب ضرور ہیں، ان کی جتنی رقم آپ نے دبا رکھی ہے۔ ہم اس طرح کے گھمنڈ کا علاج کرنا جانتے ہیں۔ آپ یہاں بھی اداکاری کر رہے ہیں، لیکن یہ کام نہیں آئے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ 2010 کا ہے۔ فلم ’اتا پتا لاپتا‘ بنانے کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ نے راجپال یادو، ان کی اہلیہ اور ان کی پروڈکشن کمپنی کو تقریباً 5 کروڑ روپے کا قرض (لون) دیا تھا۔ فلم کی ریلیز میں تاخیر کے بعد پیسے لوٹانے کو لے کر سمجھوتہ ہوا، لیکن کمپنی کو دیے گئے 7 چیک باؤنس ہو گئے۔ اس کے بعد مرلی پروجیکٹس نے نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرایا۔ اپریل 2018 میں ٹرائل کورٹ اور 2024 میں سیشنس کورٹ نے راجپال یادو کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔