قومی خبریں

کیا اس شر میں مسلمانوں کے لئے خیر کا پہلو چھپا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ کبھی کبھی خیر میں شر کا پہلو چھپا ہوتا ہے اور کبھی کبھی شر میں خیر کا پہلو۔ سال 2019 میں جو کچھ ہوا، جن کو اقلیتیں شر سمجھ رہی ہیں وہ شائد ان کے لئے خیر کا پہلو ثابت ہوں۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کی جمعہ مسجد سے احتجاج
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کی جمعہ مسجد سے احتجاج Social Media

اگر دِل سے یہ دعا نکلے کہ یہ سال تو اچھا سال رہے، تو اس کا مطلب سیدھا ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ ظاہر ہے موجودہ صورتحال کو کسی بھی طرح ٹھیک نہیں کہہ سکتے کیونکہ ٹھیک کہنے کے لئے دل پتھر کا چاہئے۔ نہٹور کے سلیمان اور انس کے گھر والوں کے دلوں پر کیا گزر رہی ہوگی اس کا اندازہ بھی لگانا مشکل ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش میں 22 اور آسام میں 5 ایسے خاندان ہیں جن کے گھر موت کا ماتم پسرا ہوا ہے۔ ان گھروں کے لوگوں کے لئے اناج کا ایک دانہ بھی حلق سے نیچے اتارنا مشکل ہو رہا ہوگا۔ شہریت ترمیمی قانون واحد ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ دعا دل سے نکل رہی ہے کہ ’یہ سال تو اچھا سال رہے‘۔ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ پیاز جیسی عام لوگوں کے استعمال کی چیز عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہو گئی ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کا خوف اس قدر گھر کر رہا ہے کہ ان کی پڑھائی سے دوری بڑھتی نظر آ رہی ہے اور وہ زبردست مایوسی کا شکار ہیں۔ ملک کا کسان جو پہلے سے ہی مقروض ہے وہ مزید قرضوں میں گھرتا جا رہا ہے۔ مزدوروں کی نوکریاں خطرے میں ہیں کیونکہ ملک کی بڑی بڑی صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔

Published: 01 Jan 2020, 8:30 PM IST

یہ ایسے مسائل ہیں جن پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کر کے ان کے حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن اس کے بر عکس حکومت کی توجہ اس بات پر زیادہ ہے کہ جو مذہبی اقلیتیں پڑوسی ممالک میں زیادتیوں کا شکار ہیں ان کو اپنے ملک میں شہریت کیسے دی جائے اور حکومت یہ شہریت بھی مذہبی تفریق کی بنیاد پر دینا چاہتی ہے۔ کسی بھی ایسے شہری کو جس کے ساتھ کسی ملک میں زیادتی ہورہی ہو، اس کو اپنے ملک میں پناہ دینا یا اپنے ملک میں شہریت دینا ایک انتہائی نیک قدم ہے لیکن اگر ایسے نیک کام کو بھی سیاسی چشمہ پہنانے کی کوشش کی جانے لگے تو یہ انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ اس کے نتائج سامنے آ چکے ہیں، ملک کا ایک بڑا طبقہ اس کے خلاف کھڑا ہو گیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف لوگوں کی جانیں گئی ہیں بلکہ بڑے پیمانہ پور سرکاری نقصان کے ساتھ ساتھ طلباء کی تعلیمی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

Published: 01 Jan 2020, 8:30 PM IST

ویسے تو اس سال اگر حکومت کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا جائے تو اقتصادی شعبہ میں پوری طرح ناکامی رہی ہے اور سیاسی محاذ پر بھی مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کو ریاستوں میں زبردست نقصان ہوا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس نے طلاق ثلاثہ اور شہریت ترمیمی قانون کوپارلیمنٹ سے منظور کرا لیا ہے۔ ان دونوں معاملوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک بات تو واضح ہے کہ دونوں کا تعلق ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں سے ہے۔ حکومت اور اس کے سرپرست ضرور یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ان معاملوں کے ذریعہ اقلیتوں کو گھیر کر اکثریت کے بڑے طبقہ کو خوش کر دیا گیا ہے لیکن اگر اس کو غور سے دیکھا جائے تو ان دونوں معاملوں اور ایک بابری مسجد کے معاملہ سے ملک کی اقلیت کو بہت بڑا فائدہ ہوا ہے۔

Published: 01 Jan 2020, 8:30 PM IST

اگر بابری مسجد کے فیصلہ پر غور کیا جائے تو یہ ہر لحاذ سے اقلیتوں کے حق میں ہے۔ سپریم کورٹ نے مسجد کی اراضی ہندو فریق کو دیتے ہوئے یہ مان لیا کہ مسجد کسی مندر کی جگہ تعمیر نہیں کی گئی تھی اور 6 دسمبر 1992 کو مسجد کا انہدام ایک مجرمانہ عمل تھا۔ یعنی مسجد انہدام کرنے والوں کوغلط قرار دیا گیا۔ اقلیتوں کے موقف کی تائید ہوئی اور تنازعہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔ لیکن جو فیصلہ سنایا گیا اس سے ہندو فریق اور سپریم کورٹ دونوں پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ یہ وہ پہلو ہیں جو ملک کی اقلیتوں کے حق میں ہیں۔

Published: 01 Jan 2020, 8:30 PM IST

طلاق ثلاثہ بل کی منظوری سے یہ ضرور ہے کہ اس میں سزا کے پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو اقلیتوں کے لئے یہ بہت اہم اور اچھا فیصلہ ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ مسلمانوں میں اکثریت یہ چاہتی تھی، لیکن مسلکی اختلافات کی وجہ سے اس میں کوئی حتمی فیصلہ لینے کی کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اب حکومت کے فیصلہ کے بعد اس مسئلہ کا حل ہو گیا اور مسلمانوں کے آپسی مسلکی اختلافات کے بغیر بڑھے حل ہو گیا، بلکہ حکومت کے ذریعہ قدم اٹھائے جانے کی وجہ سے مسلمانوں میں مسلکی اتحاد بڑھ گیا۔

Published: 01 Jan 2020, 8:30 PM IST

شہریت ترمیمی قانون نے مسلمانوں کو زبر دست فائدہ پہنچایا اور حکومت کے ذریعہ یہ قانون بنائے جانے سے نہ صرف ان میں سیاسی بیداری پیدا ہو گئی بلکہ ان کے اور ملک کے آزاد خیال طبقہ میں قربت بڑھ گئی۔ صرف یہی نہیں کہ اقلیتوں میں اور آزاد خیال طبقہ میں قربت بڑھی یا جامعہ اور جے این یو میں قربت بڑھی، بلکہ اس قانون کے خلاف مظاہرہ کی وجہ سے اقلیتوں کی نصف آبادی یعنی خواتین جو ان سب سے دور رہتی تھیں یا ان کو جان بوجھ کر دور رکھا جاتا تھا وہ بھی میدان میں آ گئیں۔ خواتین کے میدان میں آنے کا سیدھا مطلب ہے کہ اقلیتوں کی قوت میں اضافہ ہوا اور اقلیتوں کی جو نصف آبادی قوم کے ہر اہم مسئلہ سے باہر رہتی تھی وہ مرکز میں آ گئی اور یہ آنے والے دنوں میں اقلیتوں کی ترقی میں اہم کردار کی شکل میں سامنے آ ئے گا۔ یہ ان مذہبی رہنماؤں کی بھی شکست ہے جنہوں نے برصغیر میں اقلیتوں کی اس نصف آبادی کو گھروں میں بند کر رکھا تھا۔

Published: 01 Jan 2020, 8:30 PM IST

کہا جاتا ہے کہ کبھی کبھی خیر میں شر کا پہلو چھپا ہوتا ہے اور کبھی کبھی شر میں خیر کا پہلو چھپا ہوتا ہے اور شاید سال 2019 میں جو کچھ ہوا ہے اور جن کو اقلیتیں شر سمجھ رہی ہیں اسی میں اقلیتوں کے لئے خیر کا پہلو چھپا ہے۔ جو بھی ہو، دعا یہی ہے کہ سال 2020 تو اچھا سال رہے۔

Published: 01 Jan 2020, 8:30 PM IST

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 01 Jan 2020, 8:30 PM IST