قومی خبریں

اقتدار حاصل کئے بغیر مسلمانوں و دلتوں کا بھلا نہیں ہوگا: مایاوتی

مایاوتی نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا ماننا تھا کہ مرکز اور ریاستوں میں اقتدار پر قابض ہوئے بغیر دلتوں، قبائلیوں، او بی سی اور مسلم سماج کے افراد کا بھلا نہیں ہوسکتا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

لکھنؤ: شہرت ترمیمی بل کے سلسلے میں اپنے پرانے موقف کو دہراتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سپریمو مایاوتی نے اتوار کو کہاکہ اترپردیش سمیت پورے ملک میں اقتدار حاصل کئے بغیر عام سماج خاص کر دلت اور مسلم طبقے کا بھلا نہیں ہوسکتا ہے۔ شہریت ترمیمی بل پر بحث کے دوران مایاوتی نے اسے آئینی اصولوں کے خلاف بتایا تھا۔

Published: 08 Dec 2019, 3:31 PM IST

مایاوتی نے یہاں پارٹی یونٹ کی جائزہ میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا ماننا تھا کہ مرکز اور ریاستوں میں اقتدار پر قابض ہوئے بغیر دلتوں، قبائلیوں، او بی سی اور مسلم سماج کے افراد کا بھلا نہیں ہوسکتا۔

Published: 08 Dec 2019, 3:31 PM IST

سابق وزیر اعلی نے کہا کہ اپنے حقوق کو حاصل کرنے اور سیکولر آئینی کے تحفظ کے لئے بی ایس پی کے بینر کے تلے اکٹھا ہو کر اقتدار اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی شہریت ترمیمی بل کے تئیں لئے گئے اپنے سابقہ موقف پر قائم ہے جس کے بارے میں لوگوں کے اندر کافی مثبت بحث بھی ہے۔

Published: 08 Dec 2019, 3:31 PM IST

انہوں نے کہا کہ یوپی سمیت پورے ملک میں خواتین کے خلاف ہراسانی، عصمت دری قتل اور انہیں زندہ جلا دینے کے بڑھ رہے واقعات کافی تشویس کا باعث ہیں اور اس کی روک تھام کے لئے فوری سخت اقدام کئے جانے کی ضرورت ہے۔

Published: 08 Dec 2019, 3:31 PM IST

بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ غریبی، بے روزگاری، مہنگائی ،خواتین سیکورٹی اور جرائم میں روک تھام کے ساتھ ملکی مفاد کے موضوعات پر مرکز اور ریاستی حکوت کو مل کر پوری سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز، کھوکھلی نعرے بازی اور کاغذی دعوے بہت ہوچکے اب عوام ٹھوس کاروائی اور بہتر نتائج کی منتظر ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ 4 دسمبر کو مرکزی کابینہ سے شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد مایاوتی نے اپنے تبصرے میں اس بل کو آئین مخالف بتاتے ہوئے اسے دوبارہ جوائنٹ کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مایاوتی نے کہا تھا کہ بی ایس پی بل کی موجودہ ہیئت سے بالکل بھی اتفاق نہیں رکھتی ہے۔

Published: 08 Dec 2019, 3:31 PM IST

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 08 Dec 2019, 3:31 PM IST