یوگا ڈے کی تقریب میں شریک پی ایم مودی / آئی اے این ایس (فائل فوٹو)
بین الاقوامی یوگا ڈے (21 جون) کے موقع پر کولکاتہ کے تاریخی ’ریڈ روڈ‘ پر ہونے والے پروگرام کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔ اس پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شریک ہونے والے ہیں۔ حالانکہ اس ایونٹ کے لیے جاری کیے گئے ٹریفک پلان کو لے کر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ محض سوا گھنٹے کے پروگرام کے لیے ریڈ روڈ اور اس سے منسلک سڑکوں کو 7 دنوں تک بند رکھنے کے فیصلے کے خلاف کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ بدھ کو ہائی کورٹ میں اس عرضی پر سماعت کا ذکر کیا گیا۔ آئیے جانتے ہیں کہ پورا معاملہ کیا ہے۔
Published: undefined
کلکتہ ہائی کورٹ کے سامنے ایک ’ایڈووکیٹس ایسوسی ایشن‘ نے یہ عرضی داخل کر کے ٹریفک پولیس کے نوٹیفیکیشن پر سوال اٹھایا ہے۔ عدالت میں پیش ہونے والے وکیل نے بتایا کہ اتوار کو صرف ایک گھنٹے 15 منٹ کے یوگا پروگرام کا انعقاد ہونا ہے، لیکن اس کے لیے انتظامیہ نے ریڈ روڈ کو 7 دنوں کے لیے پوری طرح سے بند کر دیا ہے۔ ٹریفک نوٹیفیکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے وکیل نے دلیل دی کہ اس فیصلے سے عام لوگوں پر بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ وکیل نے عدالت سے اس معاملے پر فوری توجہ دینے کی گزارش کی ہے۔
Published: undefined
عرضی میں کلکتہ ہائی کورٹ سے متعلقہ افسران کو ضروری احکامات جاری کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔ وکیل نے عدالت میں کہا کہ ’’ہم ریڈ روڈ اور اس سے منسلک سڑکوں پر پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کے لیے مناسب اور بغیر کسی رکاوٹ کے آمد و رفت کو یقینی بنانے کی مانگ کرتے ہیں۔ ان راستوں کو 7 دنوں کے لیے پوری طرح سے روک دیا گیا ہے۔‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ کولکاتہ میں بین الاقوامی یوگا ڈے کو لے کر تیاریاں عروج پر ہیں۔ کولکاتہ کے ’ریڈ روڈ‘ پر وزیر اعظم نریندر مودی یوگا ڈے کے پروگرام میں شرکت کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی گنگا ندی میں بھی ایک ساتھ 500 کشتیوں پر یوگا کیا جائے گا۔ یوگا ڈے پر منعقد پروگرام اور وزیر اعظم مودی کے بنگال دورے کو لے کر وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کا بھی بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک دن کا پروگرام نہیں ہے، بلکہ آگے بھی جاری رہے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم آئیں گے اور یوگا ڈے کا پروگرام منعقد ہوگا۔ ہم صفائی مہم کے ذریعے ان کا استقبال کریں گے۔‘‘
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined