
ہندوستان کی ہاکی ٹیم کا زعفرانی لباس، ویڈیو گریب
ہندوستانی ہاکی ٹیم کی جرسی کا رنگ نیلے سے بدل کر بھگوا کیے جانے کے فیصلہ پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سخت اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستانی ہاکی ٹیم کی جرسی کا رنگ بدلنے کا فیصلہ صرف ایک کھیل سے متعلق فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ کروڑوں ہندوستانیوں کے جذبات اور ہماری کھیل کی روایت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’ہندوستانی کھلاڑی برسوں سے دنیا بھر میں ’مین اِن بلو‘، ’دی بلوز‘ اور ’دی بلو ٹائیگرس‘ کے نام سے پہچانے جاتے رہے ہیں۔ یہ شناخت صرف جرسی کے رنگ کی نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی کھیلوں کی ایک وراثت ہے۔‘‘ ان کے مطابق آج یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس تاریخی شناخت کو بدلنے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔
کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ سوال کسی رنگ کا نہیں ہے، بلکہ فیصلہ لینے کے عمل، شفافیت اور عوامی جذبات کے احترام کا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جرسی کے رنگ میں تبدیلی جیسے اہم فیصلے کے پیچھے اختیار کردہ طریقۂ کار کو عوام کے سامنے واضح کیا جانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’زعفرانی، سفید اور سبز، تینوں رنگ ہمارے ترنگے میں موجود ہیں اور انڈین نیشنل کانگریس کے پرچم میں بھی انہیں احترام کے ساتھ جگہ حاصل ہے۔‘‘ انہوں نے موجودہ حکومت کی نظریاتی سیاست پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی یہ ہے کہ جن لوگوں کی نظریاتی روایت کا آزادی کی تحریک میں کوئی بھی تعاون نہیں رہا، وہ آج ہر قومی علامت اور ہر عوامی ادارے پر اپنی نظریاتی چھاپ چھوڑنے کی جلد بازی میں دکھائی دیتے ہیں۔
ملکارجن کھڑگے نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’تاریخ جانتی ہے آر ایس ایس نے ترنگے کی سخت مخالفت کی تھی اور سردار پٹیل نے اسے وارننگ بھی دی تھی۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ اب قومی شناخت سے جڑی مختلف چیزوں پر بغیر وسیع عوامی رضامندی کے نظریاتی رنگ چڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کبھی سڑکوں کے پیومنٹ پر، کبھی پارلیمنٹ کے ملازمین کے لباس میں، کبھی دوردرشن کے لوگو پر اور اب کھلاڑیوں کی جرسی میں، بغیر عوامی رضامندی کے ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ کانگریس صدر نے اس معاملے کو محض ہاکی ٹیم کی جرسی تک محدود رکھنے کے بجائے قومی علامات اور کھیلوں سے جڑا وسیع مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’قومی علامات، کھیلوں اور کھلاڑیوں کو تنگ نظری سے بھرے سیاسی تجربات کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘‘
کھڑگے نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر فوری طور پر نظرثانی کی جائے۔ ساتھ ہی انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’’اتنا اہم فیصلہ ہاکی انڈیا کے ایگزیکٹیو بورڈ کی جانکاری اور رضامندی کے بغیر کیسے لیا گیا؟‘‘ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں صورت حال واضح کریں اور بتائیں کہ ہندوستانی ہاکی ٹیم کی روایتی شناخت سے جڑے اتنے اہم فیصلے کے لیے کیا طریقۂ کار اختیار کیا گیا تھا اور کیا ہاکی انڈیا کے ایگزیکٹیو بورڈ کو اس فیصلے کی معلومات اور اس میں رضامندی حاصل تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔