قومی خبریں

مغربی ایشیا بحران پر ’وشو گرو‘ برکس اجلاس بلانے میں پہل کیوں نہیں کر رہے؟ کانگریس کا پی ایم مودی سے سوال

جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’خود ساختہ وشو گرو مغربی ایشیا کے بحران اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے برکس سربراہی اجلاس کو وقت سے پہلے منعقد کرنے کی سفارتی پہل کیوں نہیں کر رہے ہیں؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش /&nbsp; سوشل میڈیا</p></div>

جے رام رمیش /  سوشل میڈیا

 

کانگریس نے پیر (23 مارچ) کو مغربی ایشیا کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر سوال کیا کہ ’خود ساختہ وشو گرو‘ اس بحران کو حل کرنے کے لیے ’برکس‘ سربراہی اجلاس کا انعقاد قبل از وقت کرنے کی سفارتی پہل کیوں نہیں کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ برکس سربراہی اجلاس کا انعقاد رواں سال کے اخیر میں تجویز کردہ ہے۔

Published: undefined

کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’18 واں سالانہ برکس+ سربراہی اجلاس رواں سال کے آخر میں ہندوستان کی صدارت میں نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔ برازیل، روس، ہندوستان، چین، جنوبی افریقہ، ارجنٹائن، مصر، ایتھوپیا، سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات اس کے رکن ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’خود ساختہ وشو گرو مغربی ایشیا کے بحران اور اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اس سربراہی اجلاس کو وقت سے پہلے منعقد کرنے کی سفارتی پہل کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ واضح طور پر وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو ناراض نہیں کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

جے رام رمیش نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’’وزیر اعظم مودی مبینہ طور پر مغربی ایشیا کی صورتحال پر بات کرنے کے لیے غیر ملکی رہنماؤں کو فون کال کر رہے ہیں۔ مواصلات کے اس طریقے کی اپنی حدود ہیں، اس میں گلے ملنے، ہاتھ ہلا کر بات کرنے اور ’گیان دینے‘ والی تصویریں کھنچوانے کا موقع نہیں ہے۔ لیکن یہ سربراہی اجلاس زیادہ بامعنیٰ ہو سکتے ہیں اور آمنے سامنے کی اہم بات چیت کے علاوہ ٹھوس اقدامات بھی اٹھا سکتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی جے رام رمیش نے لکھا کہ کہ ’’رواں سال جی-20 کی سربراہی امریکہ کر رہا ہے اور اس سے امریکی صدر کی مزید بیان بازی اور طنز کے سوا کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined