
دہلی ہائی کورٹ نے پولو کلب، جم خانہ کلب اور دہلی ریس کلب کی زمین واپس لینے کے مرکزی حکومت کے فیصلے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آلودگی سے پہلے ہی متاثر دہلی میں موجود محدود سبز مقامات کو بھی ختم کرنے کی کوشش تشویش کا باعث ہے۔ عدالت نے یہ ریمارکس انڈین پولو ایسوسی ایشن کی جانب سے مرکزی حکومت کے زمین خالی کرنے کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔
Published: undefined
جسٹس نینا بنسل کرشنا نے سماعت کے دوران کہا کہ حکومت کو پولو کلب یا جم خانہ کلب کی زمین کی اچانک ضرورت کیوں پیش آ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سو برس کے دوران حکومت کو ان زمینوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، لیکن اب انہیں خالی کرا کے کیا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، اس بارے میں حکومت ہی بہتر جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں مسلسل تعمیرات اور بلند و بالا عمارتوں کی وجہ سے شہر کی فضا متاثر ہو رہی ہے اور لوگوں کے لیے سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
Published: undefined
مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل آشیش دکشت نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ زمین عوامی مفاد کے لیے واپس لی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس دستیاب زمین محدود ہے جبکہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زمین کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولو کلب کی سہولیات سے صرف چند سو افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس لیے زمین کو وسیع عوامی مقاصد کے لیے استعمال کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
Published: undefined
اس پر جسٹس نینا بنسل کرشنا نے کہا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل کے علاقوں میں جو تھوڑی بہت کھلی اور سرسبز جگہ باقی ہے، وہ بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ اگر اسی طرح بلند عمارتوں کی تعمیر جاری رہی تو دہلی کے ماحول پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عدالت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دہلی کے لوگوں کو شہر چھوڑ کر پہاڑی علاقوں میں جا کر رہنا پڑے گا، کیونکہ شہر میں رہائش کے لیے سازگار ماحول باقی نہیں رہے گا۔
Published: undefined
جسٹس کرشنا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا بیس منزلہ عمارتوں کی تعمیر واقعی عوامی مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شہری ترقی کا تصور صرف بلند عمارتوں تک محدود ہو گیا تو اس کے نتائج دہلی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ عدالت نے سماعت کے دوران حکومت کے فیصلے پر سوالات اٹھائے، تاہم انڈین پولو ایسوسی ایشن کو فوری راحت دینے سے گریز کیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے درخواست نمٹا دی اور پٹیالہ ہاؤس عدالت کو ہدایت دی کہ وہ ایسوسی ایشن کی زیر التوا درخواست پر 10 جون کو سماعت کرتے ہوئے جلد فیصلہ کرے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined