قومی خبریں

’پہلے سے ووٹر رہ چکے لوگوں کو فارم-6 بھرنے کیوں کہا جا رہا؟‘ الیکشن کمیشن سے سپریم کورٹ کا سوال

عرضی دہندگان کی طرف سے پیش وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ پہلے سے ووٹر رہے لوگوں سے فارم-6 بھروانا غلط حلف لینے کے لیے مجبور کرنے جیسا ہے۔ اس سے قانونی کارروائی کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ
الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ 

دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) پر سپریم کورٹ نے سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے اور دوبارہ نام شامل کرانے کے طریقۂ کار پر تبصرہ کیا ہے۔ عدالت کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ کسی بھی اہل ووٹر کو فہرست سے باہر نہیں رہنے دیا جائے گا۔ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے درخواستیں قبول کرنے کی آخری تاریخ میں توسیع کی جائے گی۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی 3 ججوں کی بنچ نے کہا ہے کہ اس معاملے پر اگلی سماعت 2 ہفتے بعد ہوگی۔ سماعت کے دوران عدالت نے سوال کیا کہ مسودہ ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے تقریباً 43 لاکھ افراد کو دوبارہ نام شامل کرانے کے لیے فارم-6 بھرنے کو کیوں کہا جا رہا ہے؟ یہ فارم پہلی مرتبہ ووٹر بننے والے افراد کے لیے ہوتا ہے۔

عرضی گزاروں کی جانب سے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ پہلے سے ووٹر رہ چکے افراد سے فارم-6 بھروانا انہیں غلط حلف لینے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔ اس سے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ جو لوگ پہلے ووٹر لسٹ میں شامل تھے، ان سے ایس آئی آر فارم بھروایا جانا چاہیے، نہ کہ انہیں نئے ووٹر کے طور پر درج ہونے کے لیے کہا جانا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ کسی دوسری جگہ منتقل ہو گئے ہیں یا جن کی پہلے سے درج تفصیلات میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے، انہیں فارم-8 بھرنے کی سہولت دی جانی چاہیے۔

سماعت کے دوران لاکھوں ناموں کی میپنگ نہ ہونے اور منطقی تضادات (لاجیکل ڈسکریپنسی) کی بنیاد پر نام حذف کیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس نے ابھی تک منطقی خامیوں کے اس زمرے کی قانونی حیثیت پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ بہار میں ایس آئی آر سے متعلق فیصلہ سناتے وقت یہ معاملہ اس کے سامنے نہیں تھا۔ اس مسئلے پر بعد میں سماعت کی جائے گی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ دہلی میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے اور دعوے و اعتراضات داخل کرنے کی فی الحال آخری تاریخ 30 اکتوبر 2026 ہے۔ دعوؤں اور اعتراضات کے تصفیے کی آخری تاریخ 30 نومبر ہے، جبکہ حتمی ووٹر لسٹ 4 دسمبر کو شائع کی جانی ہے۔ سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے موقف کو دیکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان تاریخوں میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔