قومی خبریں

’ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کو فارم-6 میں تبدیلی کا حکم الیکشن کمیشن کی طرف سے کس نے دیا؟‘ راہل کے نئے سوال سے نئی ہلچل

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ انتخابی نظام پر قبضہ کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کا شور اب بلند تر ہوتا جا رہا ہے۔ شہری اب کسی بھی شکل میں ووٹ چوری کو برداشت نہیں کریں گے۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی (ویڈیو گریب)</p></div>

راہل گاندھی (ویڈیو گریب)

 

ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگی کے خلاف اپوزیشن لیڈران لگاتار آواز اٹھا رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی دن بہ دن زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اب تو انڈیا اتحاد نے اس معاملہ میں باضابطہ طور پر یکجہتی کے ساتھ مارچ نکالنے اور صدر جمہوریہ سے ملاقات کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کر دیا ہے۔ اس تعلق سے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سب سے زیادہ آواز اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے آج بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں ایک نیا سوال سامنے رکھ دیا ہے۔ اس نئے سوال سے ایک نئی ہلچل کی سرگوشی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’آن لائن فارم 6 میں غیر قانونی طور پر تبدیلی کی گئی ہے، جیسا کہ خود الیکشن کمیشن کے کمشنرز نے ریکارڈ میں ظاہر کیا ہے۔‘‘ یہ لکھنے کے بعد وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن آف انڈیا میں کس نے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کو یہ تبدیلی کرنے کا حکم دیا؟‘‘ ساتھ ہی یہ بھی پوچھتے ہیں کہ ’’ٹی سی ایس میں اس معاملہ پر کس نے منظوری دی؟ اور کیا انہیں ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا؟‘‘ راہل گاندھی نے ’فارم-6‘ معاملہ میں یہ نیا سوال کیا ہے، جو کہ ٹاٹا کنسلٹنسی سے جڑا ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔