
وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
’’ٹرمپ کے دباؤ میں کمپرومائزڈ مودی امریکہ سے کثیر مقدار میں مہنگی ایل پی جی خرید رہے ہیں۔ ہندوستان میں امریکی سفیر سرجیو گور کے مطابق ہندوستان سب سے زیادہ ایل پی جی امریکہ سے خرید رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں امریکہ کی شراکت داری 10 فیصد سے بڑھ کر 67 فید ہو گئی ہے۔‘‘ یہ تبصرہ آج کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کیا ہے۔ اس بیان کے ذریعہ کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یو اے ای سے سستی شرح پر حاصل ہونے والی ایل پی جی چھوڑ کر امریکہ سے مہنگی قیمت پر ایل پی جی کی خرید ہو رہی ہے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ سے آنے والی ایل پی جی ہمیں بہت مہنگی پڑتی ہے، کیونکہ امریکہ سے دوری اور جہاز کا کرایہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی جگہ یو اے ای سے آنے والی ایل پی جی ہمیں سستی پڑتی ہے اور ملک کے پیسے بچتے ہیں۔‘‘ پارٹی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں آگے لکھا ہے کہ ’’یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کمپرومائزڈ مودی امریکہ اور ٹرمپ کے دباؤ میں ملک کا نقصان کروا رہے ہیں۔‘‘ کانگریس نے وزیر اعظم مودی پر امریکہ سے ڈرنے کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’نہ جانے امریکہ کے پاس کون سی فائل ہے، جس کی وجہ سے مودی اتنا ڈر رہے ہیں۔‘‘
اس درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کیا ہے، جو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکی سفیر سرجیو گور کی اس تصویر سے جڑا ہوا ہے، جو انھوں نے ممبئی میں کھنچوائی ہے۔ تصویر شیئر کرتے ہوئے پون کھیڑا لکھتے ہیں کہ ’’امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سفیر سرجیو گور کے پیچھے نظر آنے والا گیٹ وے برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے 1911 میں شاہ جارج پنجم اور ملکہ میری کے بمبئی (ممبئی) کے شاہی دورے کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا تھا۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’یہ ایک ایسی سلطنت کی شان میں تعمیر کیا گیا، جس نے ہندوستان پر حکومت کی، گیٹ وے اس نوآبادیاتی شکنجے کی علامت کے طور پر کھڑا ہے، جسے توڑنے کے لیے ہم نے سخت جدوجہد کی تھی۔‘‘
دراصل اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے پون کھیڑا نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے، جو نوآبادیاتی دور کی نشانیوں کو ختم کرنے کی صرف کھوکھلی باتیں کرتی ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’یہ ہمارے لیے ایک بروقت یاد دہانی بھی ہے اور اس عزم کی علامت بھی کہ ہمارے دور کے نئے نوآبادیاتی طاقتوں کو ہندوستان کی سخت جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی آزادی اور خود مختاری کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ہندوستان سب سے پہلے ہندوستانیوں کا ہے۔ ہماری توانائی کی سلامتی، غذائی سلامتی اور ڈاٹا کی سلامتی، نیز ہمارے کسانوں کی روزی روٹی اور گزر بسر کو ایک ایسے مودی کی خوشامد میں امریکی تعریف کے چند الفاظ کی خاطر قربان نہیں کیا جا سکتا، جسے آسانی سے بہکایا جا سکتا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔