
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
کانگریس نے پیر کو ستیہ نکیتن میں پی جی کی عمارت منہدم ہونے کے واقعہ پر بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ہر بار بی جے پی حکومت کا وہی شرمناک پیٹرن، حادثات سے پہلے روک تھام نہیں، ان کے بعد بیان بازی ہوتی ہے، کچھ چھوٹے افسران پر ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے اور اصل گنہگار جوابدہی سے آزاد رہتے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ستیہ نکیتن میں طلبہ سے بھری عمارت کا گرنا کوئی اکلوتا سانحہ نہیں ہے۔ گزشتہ 4 مہینوں میں سید العجائب میں ایسے ہی ایک سانحہ میں 6 افراد کی موت ہوئی اور حوض رانی میں آگ نے 22 جانیں لے لیں۔ ہر بار زندگیاں، خواب اور ارمان ملبے میں دب جاتے ہیں اور ہر بار کارروائی غائب رہتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’جوابدہی کا مطالبہ کرنے پر وزیر اعظم خود آپ کو ’دماغی نکسل، ناراض پھوپھا‘ جیسے توہین آمیز تمغے دے دیتے ہیں۔ مقصد، سوال پوچھنے والوں کو شرمندہ کرو، بدنام کرو اور خاموش کرا دو۔‘‘
کانگریس لیڈر نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’12 سال میں یہ حکومت دنیا بھر کی باتیں کر کے آپ کو گول گول گھماتی رہی، لیکن اصل مسئلے کی بات نہیں کی۔ دہلی میں ’ٹرپل انجن‘ کی حکومت ہے، تو اب کس بات سے لاچار ہے؟ لاچاری ہے نیت کی، کیونکہ جہاں نیت نہیں ہوتی، وہاں جوابدہی بھی نہیں ہوتی۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں راہل گاندھی نے لکھا ’دیئر از نو اکاؤنٹیبلٹی‘ یعنی کوئی جوابدہی نہیں ہے۔
راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کے نوجوان لیڈر کنہیا کمار نے بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’ملک کے ہر طالب علم کے لیے سستی رہائش کا انتظام کیا جائے اور رینٹ کنٹرول ایکٹ لایا جائے۔ سوال وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، اراکین اسمبلی، میئر، کونسلر اور ایم سی ڈی کمشنر سے پوچھا جائے گا۔ سوال وزیر اعظم مودی کی قصیدہ خوانی کرنے والے دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر یوگیش سنگھ سے بھی پوچھا جائے گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں لیپاپوتی کی کارروائی سے بچنا ہوگا اور جوابدہی طے کرنی ہوگی۔ نریندر مودی اپنا پی آر کرنے ایس آر سی سی گئے، تو ستیہ نکیتن کیوں نہیں گئے؟ ’شکشت بھارت‘ سے ’وکست بھارت‘ بنے گا، جھوٹ اور پی آر سے ہندوستان کا بھلا نہیں ہوگا۔ اس لیے ہم ’چھاتروں کی گونج‘ کے ذریعہ طلبہ سے جڑے مسائل اور تعلیمی نظام کی آواز اٹھا رہے ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔