قومی خبریں

’جب خام تیل سستا ہوا، تو پٹرول-ڈیزل مہنگا کیوں؟‘ کھڑگے نے مودی حکومت پر منافع خوری کا سنگین الزام کیا عائد

کانگریس صدر کھڑگے کا کہنا ہے کہ آج خام تیل کی قیمت 99 ڈالر فی بیرل سے کم ہے، لیکن پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھ کر بالترتیب 102.12 روپے اور 95.20 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر کھڑگے، تصویر@INCIndia</p></div>

کانگریس صدر کھڑگے، تصویر@INCIndia

 

گزشتہ روز پٹرول و ڈیزل کی قیمت میں اضافہ اور آج پی این جی کی قیمت میں اضافہ نے عوام نہ صرف عوام کی جیب پر بوجھ ڈال دیا ہے، بلکہ مہنگائی کے آثار کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اس معاملے میں کانگریس مستقل مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اور عوام مخالف پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ایک تازہ سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انھوں نے کچھ حقائق سامنے رکھے ہیں اور کہا ہے کہ ’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، پڑھے لکھے کو فارسی کیا!‘‘

Published: undefined

ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’پی آئی بی کے آفیشیل بیان کے مطابق آج سے ٹھیک 12 سال قبل 26 مئی 2014 کو، جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا تھا، اس دن ہندوستانی باسکیٹ کا خام تیل 108.05 ڈالر فی بیرل تھا اور ڈالر-روپیہ ایکسچینج ریٹ 58.59 روپے تھی۔ اس وقت پٹرول 71.51 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 56.71 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہی تھی۔‘‘ اس کے بعد تازہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’آج خام تیل کی قیمت 99 ڈالر فی بیرل سے کم ہے، لیکن پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھ کر بالترتیب 102.12 روپے فی لیٹر اور 95.20 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یعنی خام تیل سستا ہوا، لیکن پٹرول تقریباً 42.8 فیصد اور ڈیزل تقریباً 67.9 فیصد مہنگا ہو گیا۔‘‘

Published: undefined

پرانی اور نئی قیمتوں کا موازنہ کرنے کے بعد کانگریس صدر نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہر ماہر معیشت جانتا ہے، پٹرول-ڈیزل کی مہنگائی کا اثر ہر شعبہ پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن سے لے کر خوردنی اشیا تک، عام آدمی پر مہنگائی کی مار بڑھتی ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی منافع خوری جاری ہے۔‘‘ وہ یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ جب خام تیل سستا ہوا ہے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ کیوں گئی ہیں؟ مودی حکومت سے وہ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ آخر عوام کو راحت کیوں نہیں دی جا رہی؟

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined