گرافکس @INCIndia
مرکز کی مودی حکومت نے ’نیشنل اوورسیز اسکالرشپ‘ کے لیے منتخب کئی طلبا سے محض اس لیے بیرون ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع چھین لیا ہے، کیونکہ حکومت کے پاس فنڈ نہیں ہے۔ اس معاملے میں کانگریس نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اپنے متروں اور پی آر (اشتہارات) کے لیے تو کروڑوں ہے، لیکن دلت، قبائلی و حاشیہ پر زندگی گزارنے والے طلبا کے لیے فنڈ نہیں ہے۔‘‘
Published: undefined
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بھی اس معاملے میں مودی حکومت پر تلخ تبصرہ کیا ہے۔ انھوں نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جب کوئی دلت، پسماندہ یا قبائلی طالب علم پڑھنا چاہتا ہے، تبھی مودی حکومت کو بجٹ یاد آتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’نیشنل اوورسیز اسکالرشپ میں منتخب 106 میں سے 66 طلبا کو محض اس لیے بیرون ممالک میں پڑھنے کی اسکالرشپ نہیں دی گئی، کیونکہ حکومت کے پاس ’فنڈ نہیں‘ ہے۔ لیکن مودی جی کے بیرون ملکی اسفار، تشہیر اور ایونٹ بازی پر ہزاروں کروڑ روپے بے جھجک خرچ کیے جاتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی نے یہ تبصرہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی گئی اپنی ایک پوسٹ میں کیا ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے انگریزی روزنامہ ’ہندوستان ٹائمز‘ کی اس رپورٹ کا تراشہ شیئر کیا ہے جس میں جانکاری دی گئی ہے کہ فنڈ کی کمی کے سبب 106 منتخب طلبا میں سے صرف 40 کو ہی اسکالرشپ جاری کی گئی ہے۔ اس خبر پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’بی جے پی-آر ایس ایس لیڈران کے بچون کو کہیں پڑھنے میں کوئی رخنہ نہیں، لیکن جیسے ہی کوئی بہوجن طالب علم آگے بڑھتا ہے، پورا سسٹم رخنہ پیدا کرنے لگتا ہے۔ کہیں سرکاری اسکولوں کو کم کر دینا، کہیں بے وجہ ’ناٹ فاؤنڈ سوئٹیبل‘ کہہ کر مواقع کے دروازے بند کر دینا، تو کہیں محنت سے حاصل اسکالرشپ چھین لینا... یہ صرف ناانصافی نہیں، بی جے پی کی ’بہوجن تعلیم‘ کی کھلی مخالفت ہے۔ یہی منوادی سوچ آج پھر سے ایکلویہ کا انگوٹھا مانگ رہی ہے۔‘‘
Published: undefined
اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے مودی حکومت سے کہا ہے کہ انھیں ہر حال میں منتخب طلبا کو بیرون ممالک بھیجنا ہی ہوگا۔ وہ اس تعلق سے عزم ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’مودی حکومت کو یہ غیر انسانی فیصلہ فوراً پلٹنا ہوگا، اور ان 66 طلبا کو بیرون ممالک بھیجنا ہی ہوگا۔ ہم بہوجنوں سے تعلیم کا یہ بنیادی حق چھننے نہیں دیں گے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined