قومی خبریں

اتر پردیش کے مدارس میں کامل و فاضل کی ڈگری بند ہونے کا کیا پڑے گا اثر؟

5 نومبر 2024 کو انجم قادری بنام یونین آف انڈیا معاملہ میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مدارس اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں نہیں دے سکتے کیونکہ کامل اور فاضل ڈگریوں کو یو جی سی سے منظوری حاصل نہیں ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مدارس کے طلبا</p></div>

مدارس کے طلبا

 

تصویر بشکریہ مدرسہ تجوید القرآن

اتر پردیش کے مدارس میں اب کامل اور فاضل کی ڈگری نہیں ملے گی۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں گزشتہ منگل کو ہوئی کابینہ میٹنگ کے دوران ’مدرسہ ایجوکیشن کونسل ایکٹ 2004‘ میں ترمیم کو منظوری دے دی گئی۔ اس قدم کے بعد کامل (گریجویشن کے مساوی) اور فاضل (پوسٹ گریجویشن کے مساوی) کا کورس مدارس میں نہیں ہو پائے گا۔ یعنی مدارس کے بچوں کو اگر عصری طریقۂ تعلیم والے اداروں میں داخلہ لینا ہے تو عالم کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہی پیش رفت کرنی ہوگی۔

دراصل 2022 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مدرسہ بورڈ کو ہی غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔ لیکن نومبر 2024 میں سپریم کورٹ نے بورڈ کے آئینی جواز کو برقرار رکھا اور کہا کہ مدرسہ بورڈ اعلیٰ تعلیم کی ڈگری نہیں دے سکتا۔ یوگی حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے تازہ قدم کی وجہ سپریم کورٹ کا وہی فیصلہ ہے۔ اس سلسلے میں اقلیتی امور کے ریاستی وزیر دانش انصاری نے واضح بھی کیا کہ عدالتی حکم کے بعد سے نئے سیشن میں کامل و فاضل کے کورسز میں داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔ اب ایکٹ میں ترمیم کر یہ کورس باضابطہ طور پر ہٹا دیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جن کے داخلے کامل یا فاضل ڈگری کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے حکم سے پہلے ہوئے تھے، ان کی ڈگری کے جواز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس ڈگری کی بنیاد پر ملازمت حاصل کر چکے لوگ بھی اثر انداز نہیں ہوں گے۔

قابل ذکر ہے کہ 5 نومبر 2024 کو انجم قادری بنام یونین آف انڈیا معاملہ میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مدارس اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں نہیں دے سکتے کیونکہ کامل اور فاضل ڈگریوں کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) سے منظوری حاصل نہیں ہے۔ اس معاملے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کو قومی پیمانوں اور ضابطوں کے مطابق بنانے کے مقصد سے یہ قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل سے منسلک موجودہ قانون میں ترمیم کی جائے گی، جس کے بعد مدرسہ ایجوکیشن سسٹم میں کئی اہم تبدیلیاں نافذ ہوں گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس ترمیم سے اعلیٰ تعلیمی نظام میں یکسانیت، شفافیت اور معیار یقینی کرنے میں مدد ملے گی۔

ایک میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ حکومت پہلے سے جاری کامل و فاضل کی ڈگریوں کو بھی ناقابل قبول قرار دینے کی تیاری میں ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست کے لاکھوں طلبا کے سامنے سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے کسی بھی فیصلے سے ان کی ڈگریاں محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جائیں گی۔ اس کے بعد وہ نہ تو ان ڈگریوں کی بنیاد پر آگے کی پڑھائی کر سکیں گے اور نہ ہی ملازمت کے لیے درخواست دے پائیں گے۔

واضح رہے کہ اتر پردیش میں مدرسہ ایکٹ 2004 میں بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد مدرسہ ایجوکیشن کو منظم کرنا تھا۔ اس کے تحت عربی، فارسی، اسلامک اسٹڈی، روایتی طب اور فلسفہ جیسے موضوعات کو فروغ دیا گیا۔ نومبر 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش میں تقریباً 25 ہزار مدارس ہیں۔ ان میں سے تقریباً 16 ہزار کو اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل سے منظوری حاصل ہے۔ تقریباً 8.5 ہزار مدارس کو اب تک منظوری نہیں ملی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔