قومی خبریں

’2014 میں آپ کی حیثیت کیا تھی؟‘ کانگریس نے ہردیپ سنگھ پوری کے ایپسٹین سے ’پروفیشنل رشتہ‘ والے بیان پر کیا طنز

پون کھیڑا نے سوال اٹھایا کہ ہردیپ پوری 2014 میں ریٹائرڈ ڈپلومیٹ تھے، پھر کس طرح انھوں نے خارجی معاملوں میں اپنی خدمات پیش کی؟

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر پون کھیڑا / ویڈیو گریب</p></div>

کانگریس لیڈر پون کھیڑا / ویڈیو گریب

 

’ایپسٹین فائلز‘ نے دنیا کے کئی ممالک میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے اور ہندوستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری اس معاملہ میں لگاتار اپوزیشن پارٹی کانگریس کی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے ایپسٹین سے اپنے رشتوں کو لے کر ہردیپ سنگھ پوری کے ذریعہ دی گئی صفائی پر سوالات کی بارش کر دی ہے۔ انھوں نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر صبح سے کئی پوسٹ اس معاملے میں کیے ہیں اور تازہ ترین پوسٹ تو ہردیپ پوری کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

Published: undefined

اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری تازہ سوشل میڈیا پوسٹ میں پون کھیڑا نے ہردیپ سنگھ پوری سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پورے ملک میں ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ ایپسٹین فائلز کی وجہ سے کئی ممالک میں استعفے ہو رہے ہیں۔ ہندوستان میں جو نام سامنے آئے ہیں، انھیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مودی جی کا نام ایپسٹین فائلز میں ہے، اور مودی جی کے آس پاس موجود لوگوں کا تو سینکڑوں بار ذکر ہے۔ مودی کابینہ میں وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کل پریس کانفرنس کی۔ یہ کہتے ہیں کہ میرے ’پروفیشنل رشتے‘ تھے۔ صاحب! آخر تھے کیا آپ 2014 میں، جو آپ کے پروفیشنل رشتے تھے؟ آپ کی حیثیت کیا تھی 2014 میں؟‘‘

Published: undefined

پون کھیڑا نے یہ تبصرہ ’ایکس‘ پر اپنا ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس ویڈیو میں وہ ہردیپ سنگھ پوری کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ ’’ایپسٹین کس کے اشارے پر، کس کی ہدایت پر ریڈ ہاف مین کا ہندوستانی دورہ پلان کر رہا ہے؟ اور آپ (ہردیپ پوری) اس پلاننگ کو عمل میں لانے کے لیے، انتظامات کرنے کے لیے مدد کر رہے تھے۔‘‘ وہ آگے بتاتے ہیں کہ ’’ایپسٹین کی ہدایت پر ہردیپ پوری چل رہے تھے، ایپسٹین کس کی ہدایت پر چل رہے تھے وہ معلوم نہیں۔ یہ ہمیں نہیں معلوم کہ نریندر مودی اور ایپسٹین کے درمیان ہردیپ پوری کڑی کا کام کر رہے تھے یا نہیں، لیکن ریڈ ہاف مین کے ہندوستانی دورہ میں ہوئے ایک پروگرام میں نریندر مودی نے شرکت کی تھی۔ یہ سب ہردیپ پوری کس حیثیت سے کر رہے تھے؟‘‘

Published: undefined

پون کھیڑا نے سوال اٹھایا کہ ہردیپ پوری 2014 میں ریٹائرڈ ڈپلومیٹ تھے، پھر کس طرح انھوں نے خارجی معاملوں میں اپنی خدمات پیش کی؟ طنزیہ انداز میں وہ پوچھتے ہیں کہ ’’کیا حکومت ہند کا سفارتخانہ بند ہو چکا تھا؟ کیا سفارت کار موجود نہیں تھے؟ کیا سشما سوراج جی (وزیر خارجہ) نہیں تھیں؟ نریندر مودی کو ہردیپ پوری کی ضرورت کیوں پڑی؟ کیا ایپسٹین کو بھی ہندوستانی سفارتخانہ نہیں، ہردیپ پوری ملے؟ اور کیا نریندر مودی کو ایپسٹین ملے ریڈ ہاف مین کو ہندوستان لانے کے لیے۔‘‘ وہ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’ہمیں یہ نہیں سمجھ آ رہا سفارت خانہ ہوتے ہوئے، اتنا عملہ ہوتے ہوئے، ایک وزیر خارجہ ہوتے ہوئے، وزارت خارجہ ہوتے ہوئے ایپسٹین اور ہردیپ پوری...! یہ لوگ ریڈ ہاف مین کی آمد کا منصوبہ بنا رہے ہیں؟‘‘

Published: undefined

اس سے قبل بھی پون کھیڑا نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر ہردیپ سنگھ پوری کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے 4 اکتوبر 2014 کے مبینہ ای میلز کا حوالہ دیا، جو امریکی محکمہ انصاف کے ذریعہ جاری کیے گئے دستاویزات کا حصہ ہیں۔ اس بات چیت کی مبینہ ابتدا کا ذکر کرتے ہوئے پون کھیڑا نے ’ایکس‘ پر لکھا ’’آج ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ ان کے ’رابطوں‘ نے انھیں ریڈ ہاف مین سے ملوایا تھا۔ لیکن انھوں نے جو نہیں بتایا، وہ زیادہ اہم ہے۔ 4 اکتوبر 2014 کو ایپسٹین نے ہردیپ کو ای میل کیا ’کیا ریڈ سے ملاقات ہوئی؟‘ ہردیپ نے کچھ ہی گھنٹوں میں جواب دیا ’میں آج دوپہر ایک میٹنگ کے لیے سین فرانسسکو میں ہوں۔ میرے دوست، تم تو چیزیں کروا دیتے ہو۔ کوئی مشورہ؟‘ ایپسٹین نے جواب دیا– اسے بتاؤ کہ تم اس کے ہندوستان دورہ کا انتظام کرو گے، تاکہ وہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے لوگوں اور سوشل نیٹورکنگ کے استادوں سے ملاقات ہو سکے۔‘‘

Published: undefined

مذکورہ بالا باتوں کو سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ پون کھیڑا نے جو سوالات قائم کیے، وہ انتہائی اہم ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ

  • ایپسٹین کو ہردیپ اور ریڈ کی ملاقات ہونے سے پہلے ہی اس کے بارے میں کیسے پتہ چل گیا تھا؟

  • کیا ایپسٹین ہی وہ ’رابطہ کرانے والا‘ تھا جس نے ریڈ ہاف مین کے ساتھ ملاقات کروائی تھی؟

  • ہردیپ اس سے ملاقات کی جانکاری کیوں شیئر کر رہے تھے؟

  • ایپسٹین کو ’دوست‘ کیوں کہا جا رہا تھا؟

  • ہردیپ کے لیے ایپسٹین کیا کر رہا تھا؟

  • اگر ان کا تعلق محض اتفاق یا سطحی تھا، تو ہردیپ ایپسٹین سے ’صلاح‘ کیوں مانگ رہے تھے؟

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined