قومی خبریں

’یہ اعزاز کس بات کا ہے؟‘ استعفیٰ کے بعد پارلیمنٹ احاطے میں دھرمیندر پردھان کے استقبال پر جے رام رمیش کا بی جے پی سے سوال

رمیش نے کہا کہ ’بی جے پی کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ پیپر لیک، برباد ہوتے تعلیمی نظام، طلبہ پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن چلانے کے باوجود کیا پردھان کا کام قابل تعریف تھا؟ اگر نہیں تو یہ اعزاز کس بات کا ہے؟‘

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش /&nbsp;&nbsp;INCIndia@</p></div>

جے رام رمیش /  INCIndia@

 

کانگریس نے پارلیمنٹ احاطے میں سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استقبال کیے جانے پر بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے سوال کیا کہ برباد ہوتے تعلیمی نظام اور طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال کے لیے دھرمیندر پردھان کی تعریف کی جا رہی ہے۔ دراصل دھرمیندر پردھان آج جب پارلیمنٹ پہنچے تو بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ بہار کے دربھنگہ سے رکن پارلیمنٹ گوپال جی ٹھاکر نے انہیں ’پاگ‘ (متھلا کی روایتی ٹوپی) پہنائی۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’آج بی جے پی اراکین پارلیمنٹ سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استقبال ایسے کر رہے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بڑی کامیابی حاصل کی ہو۔ ملک نے پہلے بھی دیکھا کہ پردھان نے اپنے استعفیٰ میں پیپر لیک کے لیے معافی مانگنے کے بجائے طلبہ کو ہی گمراہ ہونے کا الزام عائد کیا تھا اور اس کے بعد تمام مرکزی وزراء نے سوشل میڈیا پر پردھان کی خوب تعریف کی تھی۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ پورا واقعہ انتہائی شرمناک ہے اور ملک کے نوجوانوں کی شدید توہین ہے۔‘‘

اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس لیڈر جے رام رمیش مزید لکھتے ہیں کہ ’’بی جے پی کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ پیپر لیک، برباد ہوتے تعلیمی نظام، طلبہ پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن چلانے کے باوجود کیا پردھان کا کام قابل تعریف تھا؟ اگر نہیں تو یہ اعزاز کس بات کا ہے؟ اگر ہاں تو کیا بی جے پی ملک کے نوجوانوں اور طلبہ کو یہی پیغام دینا چاہتی ہے؟ ملک جواب چاہتا ہے۔‘‘

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے بی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ’’جس طرح پہلے بلقیس بانو معاملے کے قصورواروں کا استقبال کیا گیا تھا اسی طرح اب دھرمیندر پردھان کا اعزاز کیا جا رہا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’پردھان نے وزارت تعلیم میں آر ایس ایس کے ایجنڈے کو نافذ کیا، اس لیے وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے ہیرو ہیں۔‘‘ ان کے مطابق اب ملک کی عوام دھرمیندر پردھان کی اصلیت جان چکی ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ رینوکا چودھری نے کہا کہ ’’دھرمیندر پردھان کا استقبال کر کے بی جے پی ایک قصوروار شخص کو ہیرو بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بی جے پی کے طریقۂ کار اور سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔