قومی خبریں

’116000 درختوں کا کیا ہوا؟‘ اراولی کے متعلق سپریم کورٹ کا ڈی ڈی اے سے سوال

سماعت کے دوران سی جے آئی سوریہ کانت نے ڈی ڈی اے سے پوچھا کہ ’’ان 116000 (ایک لاکھ سولہ ہزار) درختوں کا کیا ہوا؟ جنہیں لگانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

سوشل میڈیا

 

دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے اراولی مورفولوجیکل رِج علاقہ میں ’سنٹرل آرمڈ پولیس فورس میڈیکل انسٹی ٹیوٹ‘ (سی اے پی ایف آئی ایم ایس) کے لیے سڑک کی تعمیر کی خاطر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ ڈی ڈی اے نے 473 درخت کاٹنے کی اجازت مانگی ہے۔ ڈی ڈی اے کی عرضی پر پیر (5 جنوری) کو سماعت ہوئی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے فی الحال درختوں کو کاٹنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 19 جنوری کو ہوگی۔

Published: undefined

ڈی ڈی اے کی عرضی پر سپریم کورٹ نے سخت موقف اپنایا ہے۔ سماعت کے دوران سی جے آئی سوریہ کانت نے ڈی ڈی اے سے پوچھا کہ ان 116000 (ایک لاکھ سولہ ہزار) درختوں کا کیا ہوا، جنہیں لگانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب تک گزشتہ احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ نہیں ملتی درختوں کو کاٹنے کی نئی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Published: undefined

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم جلد بازی میں کچھ بھی نہیں ہونے دیں گے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ جب تک ہمیں یہ یقینی نہیں ہو جاتا کہ ہماری ہدایت کی پاسداری کی گئی ہے، کچھ بھی نہیں ہونے دیں گے۔ سی جے آئی نے ڈی ڈی اے سے سوال کیا کہ 116000 درختوں کا کیا ہوا؟ سینئر وکیل منندر سنگھ نے کہا کہ چہار دیواری تعمیر ہو چکی ہے اور 28 فروری تک مکمل ہو جائے گی۔ اس پر سی جے آئی نے کہا کہ ہمیں اس کی تعمیل کی رپورٹ دکھائیں۔

Published: undefined

سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ آپ ایک روز میں ایک لاکھ سے زائد درخت نہیں لگا سکتے، اس کے لیے زمینی کارروائی دیکھنی ہوگی۔ پہلے آپ کو کھدائی کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہمیں اب تک موقع پر ہوئی پوری کارروائی کی رپورٹ چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ اسپتال کی ضرورت اہم ہے، لیکن ماحولیات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

Published: undefined

بنچ میں موجود جسٹس سندیپ مہتا نے بھی سڑک کی چوڑائی اور اسپتال کی او پی ڈی سہولیات پر بات کی۔ عدالت نے ڈی ڈی اے سے موقع پر ہوئی اب تک کی مکمل کارروائی کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ اسپتال کی ضرورت کو ہمارے گزشتہ فیصلوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن یہاں تقریباً 160000 درخت ہیں اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ درختوں کے کٹنے کی شرح صفر ہو اور کام مکمل ہو جائے۔ معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ 19 جنوری طے کی گئی ہے، تب تک درختوں کی کٹائی پر مکمل طور سے روک رہے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined