
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
مغربی بنگال میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے متعلق سپریم کورٹ نے ایک اہم وضاحت دی ہے۔ عدالت نے صاف کیا ہے کہ دستاویزات کی جانچ کے دوران دسویں جماعت کے بورڈ امتحان کے ایڈمٹ کارڈ کو صرف ایک معاون دستاویز کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اس کے ساتھ بورڈ کا سرٹیفکیٹ لگایا جانا ضروری ہے۔
Published: undefined
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو کی طرف سے اٹھائے گئے شبہ پر وضاحت دی ہے۔ نائیڈو کا کہنا تھا کہ عدالت نے اپنے گزشتہ حکم میں شناختی دستاویز کے طور پر آدھار کارڈ اور سیکنڈری بورڈ ایڈمٹ کارڈ کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ اس سلسلے میں ابہام پایا جاتا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن صرف 10 ویں کے سرٹیفکیٹ کو بطور دستاویز تسلیم کرتا ہے۔
Published: undefined
نائیڈو نے عدالت سے پوچھا کہ کیا ایڈمٹ کارڈ کو تنہا شناختی دستاویز کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ اس پر جسٹس باغچی نے کہا کہ ’’ہم نے ایڈمٹ کارڈ کو بھی پیش کرنے کی اجازت اس لیے دی کیونکہ اس میں تاریخ پیدائش اور والد کے نام جیسی معلومات ہوتی ہیں۔ سیکنڈری بورڈ کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ میں یہ معلومات نہیں ہوتیں، لیکن پھر بھی ایڈمٹ کارڈ کو آزادانہ شناختی ثبوت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔‘‘
Published: undefined
سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش وکیل گوپال شنکر نارائن نے کہا کہ ’’امتحان دینے والے افراد کے پاس بھی ایڈمٹ کارڈ ہو سکتا ہے، اس لیے اسے شناخت کا ایک آزدانہ دستاویز مانا جانا چاہیے۔‘‘ لیکن عدالت نے صاف کر دیا کہ ایڈمٹ کا استعمال صرف اس صورت میں درست ہوگا جب بورڈ کا سرٹیفکیٹ پیش کیا جائے گا۔
Published: undefined
سماعت کے اختتام پر عدالت نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ وہ تمام دستاویزات جمعرات، 26 فروری کو شام 5 بجے تک عدالتی افسران کو فراہم کر دیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کے کام میں تیزی اور شفافیت لانے کے لیے نچلی عدالت کے ججوں کو اس کام میں لگایا ہے۔ اب عدالت نے کہا ہے کہ 14 فروری تک جمع کرائے گئے سیکنڈری بورڈ ایڈمٹ کارڈ سمیت تمام دستاویزات ان عدالتی افسران کو دی جائیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined