
ابھیشیک بنرجی، تصویر آئی اے این ایس
مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے قومی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر ہفتہ (30 مئی) کو ہوئے حملے کے معاملے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 5 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان میں تپت میتی اور آکاش نام کے 2 نوجوان بھی شامل ہیں جو مبینہ طور پر حملے کے دوران ویڈیو میں دیکھے گئے تھے۔ ابھیشیک بنرجی پر یہ حملہ مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے سونارپور میں اس وقت ہوا تھا جب وہ انتخاب کے بعد ہونے والے تشدد کے متاثرین میں سے ایک سے ملنے کے لیے اس علاقے میں گئے تھے، متاثرہ سنجو کرماکر بھی ٹی ایم سی کے کارکن تھے۔
Published: undefined
متاثرہ خاندان سے ملنے گئے ابھیشیک بنرجی پر سینکڑوں لوگوں نے حملہ کر دیا اور ان پر انڈے اور پتھر پھینکے۔ واقعہ کی ویڈیو میں ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کرکٹ ہیلمیٹ پہنے ہوئے نظر آ رہے ہیں، ان کے ساتھ ان ساتھی بھی ہیں اور درجنوں لوگ ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ بھیڑ نے ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے ابھیشیک بنرجی کو وہاں سے بچا کر باہر نکالا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ابھیشیک بنرجی نے اپنے اوپر ہونے والے حملے کا ذمہ دار بی جے پی کو ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ مجھے جان سے مارنا چاہتے تھے۔ پورا واقعہ کیمرے میں قید ہو گیا ہے۔ ہم اس بارے میں ہائی کورٹ کو ضرور مطلع کریں گے۔ ہم گورنر کو بھی اس حوالے سے بتائیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ سب بی جے پی کے اشارے پر ہوا ہے۔ دیکھو انہوں نے کیا کر دیا ہے۔ یہ ان کی طرف سے جمہوریت کی مثال ہے۔ ابھی ایک مہینہ بھی نہیں گزرا اور پولیس کا نام و نشان نہیں ہے۔ میرا سر تو بال بال بچ گیا۔ خوش قسمتی سے میں نے ہیلمیٹ پہنا ہوا تھا۔ انہوں نے میرے کپڑے پھاڑ دیے اور چشمہ توڑ دیا۔‘‘
Published: undefined
دوسری جانب ابھیشیک بنرجی پر مبینہ حملے کے خلاف ترنمول کانگریس کے کارکنان سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ ہگلی ضلع کے چنچڑا میں پارٹی کارکنوں نے زوردار مظاہرہ کیا۔ سابق ترنمول رکن اسبملی است مجمدار نے پپل پاتی موڑ پر سڑک جام کر کے مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کے باعث کچھ دیر کے لیے ٹریفک مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھیشیک بنرجی پر انڈے اور جوتے پھینکے گئے، جس کے احتجاج میں ترنمول کانگریس سڑکوں پر اتری ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined