
پریاگ راج میں ہزاروں طلبا و نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
اتر پردیش کے پریاگ راج میں آج طلبا و نوجوانوں کا جوش دیکھتے بن رہا تھا۔ کے پی گراؤنڈ میں جب راہل گاندھی کی آمد ہوئی، تو ہزاروں کی تعداد میں موجود نوجوانوں نے بلند آواز کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ پھر شروع ہوا راہل گاندھی اور طلبا کے درمیان براہ راست تبادلۂ خیال کا سلسلہ۔ ’چھاتروں کی گونج‘ نام سے منعقد اس تقریب میں راہل گاندھی نے طلبا کو کھل کر اپنی بات رکھنے کا موقع ضرور فراہم کیا، لیکن انھوں نے ملک کے نوجوانوں اور طلبا پر زور دیا کہ وہ محبت اور عدم تشدد کے ذریعہ بدعنوان سسٹم کو تبدیل کریں۔
راہل گاندھی نے مختلف ریاستوں سے آئے طلبا کے مسائل سننے کے بعد ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نفرت اور تشدد سے کبھی کام نہیں کریں گے۔ ہم ہندوستان کی ثقافت ’سچائی و عدم تشدد‘ ہے، کسی بھی طالب علم کے دل میں نفرت نہیں، صرف محبت ہونی چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں پیار اور محبت سے اس بدعنوان سسٹم کو ختم... ٹاٹا، بائے بائے کرنا ہے۔ جو بھی نوجوان اپنے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں، میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔‘‘
ہزاروں نوجوانوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے تعلیمی نظام پر اپنی بے باک رائے سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ نظام نے روزاگر کے مواقع ختم کر دیے ہیں، یونیورسٹیوں پر قبضہ کر لیا ہے اور نوجوانوں کا مستقبل برباد کر دیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اپنی بات کو واضح انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’درد آپ کا، ڈاٹا آپ کا، دولت اُن کی۔ پورا سسٹم بی جے پی-آر ایس ایس-سرمایہ داروں کے فائدے کے لیے چلایا جاتا ہے۔‘‘ انھوں نے اس کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ ’’1. پیسہ: اڈانی کی آمدنی 10 سال میں 30 گنا بڑھی۔ 2. اقتدار: 10 سالوں میں بی جے پی کا بینک بیلنس 150 کروڑ روپے سے بڑھ کر 10 ہزار کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ 3. سوچ: اداروں میں آر ایس ایس کے پرچارک فِٹ کیے جاتے ہیں۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی-آر ایس ایس کے اس سسٹم نے روزگار ختم کیا، یونیورسٹیوں پر قبضہ کیا، آپ کے اوپر حملہ کیا ہے۔‘‘
’چھاتروں کی گونج‘ تقریب کے دوران ایک لمحہ ایسا آیا جب تاریکی میں ہزاروں طلبا نے اپنے موبائل کا ٹارچ جلا کر ہر طرف روشنی پھیلا دی۔ یہ نظارہ دیکھ کر راہل گاندھی نے کہا کہ ’’جب چاروں طرف اندھیرا نظر آ رہا تھا، آپ نے روشنی دکھائی، اور وہ کام کیا جو آپ کے والدین نہیں کر سکے... خوف پر قابو پا کر ملک میں تبدیلی لائی۔‘‘ انھوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ملک کے نوجوانوں نے تاریکی میں روشنی جلانے کا کام کیا ہے۔ ہندوستان کے نوجوانوں نے خوف کا سامنا کر ملک کو بدلنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے پُرجوش نوجوان سامعین سے کہا کہ ’’آپ اندھیرے میں مشعل بردار ہیں۔ آپ نے ملک کے نوجوانوں اور طلبا کو بیدار کر دیا ہے۔‘‘
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ہندوستان کے موجودہ نظام پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں نوجوانوں کے لیے کوئی امید نظر نہیں آتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’حکومت، سرکاری شعبے کے اداروں، مینوفیکچرنگ اور کارپوریٹ ملازمتوں سمیت روزگار کے تمام مواقع ختم ہو گئے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے ناقص نفاذ نے مینوفیکچرنگ کے شعبے کو پوری طرح تباہ کر دیا۔
اپنے اختتامی پیغام میں راہل گاندھی نے نوجوانوں سے کہا کہ ’’آپ ہندوستان کی روح ہیں، آپ ہندوستان کا مستقبل ہیں، آپ دنیا کے سب سے اسمارٹ نوجوان ہیں۔ آپ خود کو کسی سے نفرت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے اور نہ ہی خود کو پُرتشدد ہونے دے سکتے ہیں، کیونکہ آپ وہ محبت کرنے والے نوجوان ہیں جو ہر جگہ ’محبت کی دکان‘ کھولیں گے۔‘‘ انہوں نے نوجوانوں سے یہ بھی کہا کہ وہ ہندوستان کی طاقت ہیں، ہندوستان کی قوت ہیں اور ہندوستان کا فخر ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آپ کے اندر ذہانت، تخیل اور عظیم صلاحیت موجود ہے، اور اگر یہ ملک آگے بڑھے گا تو یہ آپ کی وجہ سے ہوگا۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔