
آئی اے این ایس
گورکھپور: اتر پردیش کے گورکھپور میں بارش کے بعد کئی علاقوں میں پانی بھر جانے سے عام لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہونے سے لوگوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جبکہ روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اسی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے جمعرات کو گورکھپور کے مختلف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی۔
اجے رائے نے بیتیایاہاتا علاقے میں ایک متاثرہ خاتون سے بھی ملاقات کی، جس کا گھر اور دکان بارش کے پانی کی زد میں آ گئے۔ خاتون نے بتایا کہ اس نے قرض لے کر اپنی چھوٹی سی دکان شروع کی تھی، لیکن پانی بھر جانے کے باعث دکان میں رکھا پورا سامان خراب ہوگیا۔ سامان برباد ہونے کے بعد اس کے سامنے روزی روٹی کا سنگین مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔
متاثرہ خاتون سے ملاقات کے بعد اجے رائے نے علاقے کی صورت حال کا جائزہ لیا اور حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ گورکھپور کو ’اسپین‘ بنانے کا دعویٰ کرنے والوں کو بیتیایاہاتا کی اس خاتون کی دکان میں جمع بارش کا پانی اور برباد ہوا سامان بھی دیکھنا چاہیے۔
اجے رائے نے کہا کہ قرض لے کر اپنی روزی کمانے والی خاتون کی دکان کا سامان بارش کے پانی میں برباد ہوگیا۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک دکان کو پہنچنے والے نقصان کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ گورکھپور میں عام لوگوں، دکانداروں اور خاندانوں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
کانگریس صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گورکھپور میں بارش اور پانی بھرنے سے ہونے والے نقصانات کا فوری طور پر جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے متاثرہ شہریوں، دکانداروں اور غریب خاندانوں کو مناسب معاوضہ دینے کی بھی مانگ کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو پانی بھرنے کی وجہ بننے والے مسائل کا مستقل حل تلاش کرنا چاہیے، تاکہ ہر بارش کے بعد شہریوں کو اسی طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اجے رائے نے متعلقہ افسران کی ذمہ داری طے کرنے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔
اجے رائے نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور گورکھپور کے رکن پارلیمنٹ روی کشن پر بھی نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ گورکھپور کو ’اسپین‘ بتانے سے ترقی ثابت نہیں ہوگی، بلکہ گورکھپور کے لوگوں کی زندگی، جائیداد اور روزی روٹی کو محفوظ بنانے سے ترقی ثابت ہوگی۔ انہوں نے حکومت سے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد پہنچانے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں پانی بھرنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور مستقل اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔