
تصویر سوشل میڈیا
ملک میں زیر زمین پانی کے وسائل پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل گراؤنڈ واٹر سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب، راجستھان اور ہریانہ زیر زمین پانی بحران کے سب سے بڑے ہاٹ اسپاٹ بن چکے ہیں، جب کہ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، دہلی، تمل ناڈو، کرناٹک اور پڈوچیری میں صورتحال اس سے بھی تشویشناک ہے۔
Published: undefined
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو آنے والے سالوں میں کئی علاقوں میں پینے کے پانی اور آبپاشی دونوں کے لیے سنگین چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ نیشنل بیورو آف گراؤنڈ واٹر ریچارج (این بی جی آر آئی) کے ذریعہ تیار کردہ نیشنل گراؤنڈ واٹر سروے 2025 کے مطابق ملک میں تمام تشخیص شدہ یونٹوں کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر زمین پانی کا بحران علاقائی طور پر مرکوز ہے۔
Published: undefined
پنجاب میں نشاندہی کی گئی 153 یونٹوں میں سے 72.55 فیصد یونٹیں بہت زیادہ استعمال کے زمرے میں ہیں۔ صرف 11.11 فیصد یونٹیں ہی محفوظ زمرے میں بچی ہوئی ہیں۔ اسی طرح راجستھان کی 302 یونٹوں میں 70.53 فیصد یونٹیں بہت زیادہ استعمال کے زمرے میں ہیں۔ جبکہ ہریانہ کی 143 یونٹوں میں یہ تناسب 63.64 فیصد ہے۔
Published: undefined
قومی راجدھانی دہلی میں نشان زد کی گئی 34 یونٹوں میں سے 29.41 فیصد بہت زیادہ استعمال اور 32.35 فیصد سنگین زمرے میں ہیں۔ صرف 20.59 فیصد یونٹیں محفوظ مانی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر زمین پانی پر شہری کاری اور بڑھتی ہوئی آبادی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اتر پردیش میں 836 یونٹوں کی تشخیص کی گئی۔ ان میں سے 67.34 فیصد یونٹیں محفوظ زمرے میں ہیں، جب کہ 20.45 فیصد نیم سنگین، 5.74 فیصد کریٹیکل اور 6.46 فیصد زیادہ استعمال والے زمرے میں ہیں۔ ریاست کے بڑے سائز کو دیکھتے ہوئے اس فیصد کو مستقبل کے لیے وارننگ سمجھا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں تشخیص شدہ 317 یونٹوں میں سے 69.72 فیصد محفوظ ہیں۔
Published: undefined
جنوبی ہندوستان میں ریاستوں کے درمیان بڑے تغیرات نظر آتے ہیں۔ تمل ناڈو میں 313 تشخیص شدہ یونٹوں میں سے صرف 38.66 فیصد محفوظ ہیں، جب کہ 32.91 فیصد زیادہ استعمال کے زمرے میں ہیں۔ اس کے علاوہ 19.49 فیصد نیم سنگین زمرے میں اور 7.35 فیصد سنگین زمرے میں آتی ہیں۔ کرناٹک میں 61.18 فیصد یونٹیں محفوظ ہیں، جب کہ 18.99 فیصد زیادہ استعمال کے زمرے میں ہیں۔ تلنگانہ میں 76.29 فیصد، آندھرا پردیش میں 88.5 فیصد اور کیرالہ میں 80.92 فیصد یونٹیں محفوظ زمرے میں ہیں۔ پڈوچیری میں 12.5 فیصد یونٹیں زیادہ استعمال شدہ زمرے میں درج کی گئی ہیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined