قومی خبریں

منی پور میں پھر پھوٹ پڑا تشدد، راکٹ حملہ میں 2 بچوں کی موت، امپھال سمیت 5 اضلاع میں انٹرنیٹ معطل

منی پور کے وزیر اعلیٰ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد رہیں اور ان عناصر کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہوں جو سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>منی پور میں سیکورٹی اہلکار(فائل فوٹو)</p></div>

منی پور میں سیکورٹی اہلکار(فائل فوٹو)

 

منی پور کے بشنوپور ضلع میں مشتبہ کوکی عسکریت پسندوں نے منگل (7 اپریل) کو راکٹ سے حملہ کیا، جس میں 2 بچوں کی موت ہو گئی اور ان کی ماں زخمی ہو گئی۔ ہنگامہ بڑھتا دیکھ 5 اضلاع میں انٹرنیٹ معطل کر دیا گیا ہے۔ سرکاری حکم کے مطابق منی پور حکومت نے موجودہ امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے امپھال ویسٹ، امپھال ایسٹ، تھوبل، کاکچنگ اور بشنوپور اضلاع میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا خدمات کو فوری اثر سے 3 دنوں کے لیے عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔

Published: undefined

تشدد کا تازہ کا واقعہ دیر رات تقریباً ایک بجے پیش آیا، جب موئرانگ ٹرونگلاوبی میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ذریعہ پھینکا گیا بم ایک گھر پر گرا۔ دھماکے میں 5 سال کے لڑکے اور 6 ماہ کی بچی کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ کی مخالفت میں مقامی لوگوں نے زبردست مظاہرہ کیا۔ پولیس افسر نے بتایا کہ جب گھر میں بم پھٹا اس وقت دونوں بچے اور ان کی ماں سو رہی تھی۔ واقعہ کے خلاف مقامی لوگوں نے زبردست احتجاج کیا اور علاقہ میں موجود ایک پٹرول پمپ کے پاس 2 تیل ٹینکروں اور ایک ٹرک میں آگ لگا دی۔ مظاہرین نے موئرانگ تھانہ کے سامنے ٹائر جلائے اور ایک عارضی پولیس چوکی کو بھی نقصان پہنچایا۔

Published: undefined

افسران نے بتایا کہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے علاقہ میں سیکورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔ ریاستی وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے کہا کہ یہ حملہ ’وحشیانہ فعل‘ کے مترادف ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’یہ انسانیت پر براہ راست حملہ ہے اور منی پور میں بہت مشکل سے قائم ہوئی امن و امان کی صورتحال کو بگاڑنے کی کوشش ہے۔ میں اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ذمہ دار لوگوں کی پہچان کی جائے گی۔ انہیں ڈھونڈ نکالا جائے گا اور قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایسے دہشت گردانہ اقدامات کو کسی بھی صوت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

Published: undefined

منی پور کے وزیر اعلیٰ نے لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ متحد رہیں اور ان عناصر کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہوں جو سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ نشیبی علاقے میں واقع موئرانگ ٹرونگلاوبی، چوراچاندپور کے پہاڑی کے پاس ہے اور 2023 و 2024 میں نسلی تصادم کے عروج پر ہونے کے دوران یہاں مسلسل گولی باری کے واقعات پیش آئے تھے۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ منگل کو ٹرونگلاوبی کے پاس کے علاقے سے ایک دھماکہ خیز آلہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined