
سوشل میڈیا
چنئی: تمل ناڈو کے لیے سنیچر کا دن تاریخی مانا جا رہا ہے، کیونکہ تملگا ویتری کزگم کے سربراہ اور معروف اداکار وجے کل صبح 11 بجے ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیں گے۔ جمعہ دیر شام گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے انہیں حکومت بنانے کی باضابطہ دعوت دی، جس کے بعد ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ صاف ہو گیا۔
راج بھون میں گورنر سے ملاقات کے بعد وجے نے حکومت سازی کی ذمہ داری قبول کی۔ ذرائع کے مطابق حلف برداری تقریب میں کانگریس رہنما راہل گاندھی کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اس تقریب میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، فلمی شخصیات اور دیگر اہم مہمانوں کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
خاص بات یہ رہی کہ اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے کے باوجود وجے کو حکومت سازی کے لیے آسان راستہ نہیں ملا۔ انہوں نے 6 اور 7 مئی کو دو مرتبہ گورنر سے ملاقات کر کے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا تھا لیکن ان سے کہا گیا کہ ان کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے اس لیے انہیں حکومت سازی کے لیے مدعو نہیں کیا جا سکتا۔ گورنر نے ان سے 118 اراکین کی حمایت ثابت کرنے کو کہا تھا۔ بعد میں کانگریس، وِدُتھلئی چرُتھئیگل کچی، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) کی حمایت ملنے کے بعد وجے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور تیسری مرتبہ پیش کیے گئے دعوے کو قبول کر لیا گیا۔
Published: undefined
تملگا ویتری کزگم نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے 108 نشستیں حاصل کی تھیں۔ بعد میں کانگریس، وِدُتھلئی چرُتھئیگل کچی، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) کی حمایت ملنے کے بعد وجے کو اکثریت حاصل ہوگئی، جس کے بعد گورنر نے انہیں حکومت بنانے کی اجازت دی۔
وجے کی سیاست میں آمد کو تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نئی لہر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فلمی دنیا سے سیاست تک ان کا سفر نوجوانوں، خواتین اور عام ووٹروں کے درمیان خاصا مقبول رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے روزگار، تعلیم، صحت اور ترقی جیسے مسائل کو زور دے کر اٹھایا، جس نے بڑی تعداد میں عوام کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
Published: undefined
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وجے کی کامیابی نے ریاست کی روایتی دراوڑی سیاست کو نئی سمت دی ہے۔ 1967 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب تمل ناڈو میں نہ ڈی ایم کے کی حکومت ہوگی اور نہ اے آئی اے ڈی ایم کے کی۔ اسی وجہ سے وجے کی حلف برداری کو محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ریاست کی سیاست میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی کابینہ کے ناموں پر بھی غور جاری ہے اور امکان ہے کہ حلف برداری کے فوراً بعد کابینہ کی پہلی فہرست جاری کر دی جائے گی۔ نئی حکومت سے عوام کی توقعات کافی بڑھ گئی ہیں اور ریاست میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined