
نئی دہلی: اتم نگر کے ترون قتل معاملہ میں دوارکا عدالت نے بے قصور نوجوان عمران عرف بنٹی ولد سیفی محمد کی فوری رہائی کا حکم دیتے ہوئے محکمہ پولیس کی کارروائی پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کی پریس ریلیز کے مطابق، عدالت نے واضح کیا کہ نوجوان کو محض ہم نام ہونے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا جبکہ تفتیش کے دوران اس کے خلاف کوئی قابل اعتبار یا مجرمانہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔
Published: undefined
یہ معاملہ ایف آئی آر نمبر 122/26 سے متعلق ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 5 مارچ 2026 کو زخمی مان سنگھ کے بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعد میں زخمی ترون کی موت کے بعد معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا۔ مقتول کی والدہ کی شکایت میں کئی افراد کے نام سامنے آئے تھے جن میں عمران نام بھی شامل تھا۔ اسی بنیاد پر عمران عرف بنٹی کو 8 مارچ 2026 کو اتم نگر سے گرفتار کر لیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ عمران عرف بنٹی گزشتہ تقریباً تین ماہ سے حراست میں تھا۔ بعد کی تفتیش، متعدد گواہوں کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے تجزیہ کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی کہ واردات میں ملوث شخص کوئی اور عمران تھا، جس کی شناخت عمران ولد عمردین کے طور پر ہوئی، جبکہ عمران عرف بنٹی کا معاملہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
Published: undefined
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ عمران عرف بنٹی کے خلاف کوئی ایسا مواد موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر اس کے خلاف کارروائی جاری رکھی جا سکے۔ اسی بنا پر عدالت نے اس کی فوری رہائی کا حکم جاری کیا۔
عدالت نے اس معاملہ پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ نوجوان غلط شناخت کی بنیاد پر گرفتار ہوا ہے تو اس کی رہائی کے لیے بروقت اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔ عدالت نے اس معاملہ کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے حکم کی نقل جوائنٹ کمشنر آف پولس کو بھیجنے کی ہدایت دی تاکہ متعلقہ پولس اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لیا جا سکے۔
Published: undefined
اس مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر ایڈوکیٹ عبدالغفار نے کی۔ عمران بنٹی کے والد سیفی محمد نے رہائی کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند اور قانونی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔
واضح رہے کہ ترون قتل کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال کے دوران جمعیۃ علماء ہند نے امن و امان کی بحالی، فرقہ وارانہ کشیدگی روکنے اور بے قصور افراد کو ہراساں نہ کرنے کے مطالبات بھی متعلقہ حکام کے سامنے رکھے تھے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined