
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
سپریم کورٹ نے پیر کے روز کہا کہ وہ مغربی بنگال میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے لیے تشکیل اپیلیٹ ٹریبونل پر ’کام نہیں کرنے‘ کا الزام عائد کیے جانے کے مدنظر کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے آج ہی رپورٹ طلب کرے گا۔ سینئر ایڈووکیٹ دیودَت کامت نے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا۔
Published: undefined
ایڈووکیٹ کامت نے کہا کہ یہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا معاملہ ہے۔ عزت مآب ججوں نے اس معاملے کو 24 اپریل کے لیے فہرست بند کیا ہے۔ اپیلیٹ ٹریبونل کام نہیں کر رہے ہیں، وکیلوں کو اجازت نہیں دی جا رہی ہے، وہ صرف انٹرنیٹ اور کمپیوتر پر مبنی عرضیاں ہی لے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر سے جڑے معاملوں کا عدالت کے سامنے تقریباً روزانہ ذکر کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ کامت نے دلیل دی کہ اس معاملے میں سپری کورٹ کے احکام پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ہم (ہائی کورٹ کے) چیف جسٹس سے آج ہی رپورٹ منگائیں گے۔
Published: undefined
اس معاملے میں وکیلوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو دور دور سے کولکاتا آنا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ٹریبونل ٹھیک سے کام نہیں کر رہا ہے، لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے پہلے وکیل کی شکایت کو اہمیت نہیں دی، بعد میں انھوں نے پورے معاملے میں ناراضگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے چیف جسٹس سے متعلق ملی شکایت سے سپریم کورٹ آج ناراض ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس بارے میں کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ لیں گے۔ ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے وکیل کو کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے درخواست داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined